ناول: آہ (قسط 2)

آہ
از_ناز_خان
قسط_نمبر_02


وہ ہال کا دروازہ کھول کر صحن میں آگیا تاکے کھولی ہوا میں سانس لے سکے باہر مکمل اندھیرا پھیل چکا تھا کل فری کی انگیجمنٹ تھی گھر کو خوب سجایا گیا تھا وہ سوچھ رہا تھا کہ کتنی جلدی وقت گزر جاتا ہے ابھی کل ہی کی تو بات لگتی ہے جب وہ اسے اسی صحن میں گود میں اٹھایے پھرتا تھا اور کب وہ اتنی بڑی ہوگٸ کہ اسکو رخصت کرنے کی گھڑی آ پہنچی۔
اسنے نم آنکھوں سے فری کے کمرے کی طرف دیکھا فری کے کمرے کی لاٸٹ ابھی تک جل رہی تھی۔
فری اتنی دیر تک جاگ رہی ہے وہ اپنے ساتھ بڑ بڑایا وہ مرے مرے قدموں سے فری کے کمرے کی طرف جانے لگا۔
وہ ناک کرکے اندر آگیا فری نے چونک کر اسے دیکھا بابا آپ اتنی رات کو یہاں کوٸ کام تھا تو مجھے بلوالیتے امی بتا رہی تھی کہ آپ کی طبیعت خراب ہے فری نے دوسری طرف منہ کرکے بات کی کہ کہی ابا اسکی چوری نہ پکڑلے اسنے جلدی سے اپنی آنکھیں صاف کی
علقمہ سے اسکی یہ حرکت چپھی نہیں رہی لیکن اسنے کچھ کہا نہیں۔
کوٸ بات نہیں بیٹا مجھے نیند نہیں آرہی تھی تو سوچھا کھلی ہوا میں سانس لے لو تمہارے کمرے کی لاٸٹ آن دیکھی تو سوچھا اپنی بیٹی سے کتنے دن ہوۓ بات نہیں ہوٸ اسلۓ یہاں آگیا تم بزی تو نہیں تھی؟
نہیں بابا بس نیند نہیں آرہی تھی اسلۓ یہ بک پڑھ رہی تھی فری نے ٹیبل پر رکھے کتاب کی طرف اشارہ کیا۔
فری۔
جی بابا۔
بیٹا میں مانتاہوں ہم نے تمہارے راۓ جانے بغیر تمہارا رشتہ کردیا ہمیں تمہاری راۓ جاننی چاہیے تھی لیکن بیٹا 
تم ابھی نادان ہو وقت کے ساتھ تمہیں پتا چل جاۓ گا کہ ہم نے تمہارا بھلا ہی چاہا تھا۔
فری بیٹا ہوسکے تو ہمیں معاف کردینا اور ہماری عزت کا پاس رکھ لینا علقمہ نے باقاعدہ ہاتھ جوڑ کر کہا۔
فری جو ڈبڈباتی آنکھوں سے علقمہ کی بات سن رہی تھی سٹپٹا کر علقمہ کے جوڑے ہاتھوں پر اپنا رکھ دیا بابا مجھے گناہ گار نہ کرے معاف تو مجھے کردے آپ وہ اب باقعدہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
اگلے دن انگیجمنٹ تھی گھر لوگوں سے بھر گیا تھا ہر طرف رنگ بھرنگے آنچل لہرا رہے تھے ہر چہرے پر خوشی تھی سب کچھ ٹھیک تھا لیکن جانے کیوں علقمہ کے دل کو پتنگے لگے ہوۓ تھے اسے چین نہیں تھا گبھراٸ ہوٸ تو زرش بھی بہت تھی لیکن علقمہ کی پریشانی کا عالم ہی کچھ اور تھا 
لڑکے والے آگۓ تھے لڑکے والے رسم کرنا چاہتے تھے لیکن ابھی تک فری پارلر سے ہی نہیں آٸ تھی علقمہ کو اپنی جان جاتی ہوٸ محسوس ہورہی تھی۔
کیا ہوا علقمہ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے زرش کے پوچھنے پر علقمہ نے چونک کر زرش کو دیکھا اور اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کیا اتنی سردی میں اسکا سارا جسم پسینا پسینا ہورہا تھا۔
زرش وہ وہ فری نے اتنی دیر کردی ہے سب خیریت تو ہوگی نہ میں اسے کال کر رہا ہوں لیکن وہ اٹینڈ ہی نہیں کررہی اور تاشہ کا موباٸل بھی آف آرہا ہے۔
تو آپ فری کی وجہ سے پریشان ہے آپ بھی نہ علقمہ فری اور تاشہ موباٸل گھر پر ہی چھوڑ کر گٸ ہے کہ کٸ جلد بازی میں گم نہ کردے اور آپ کو پارلر کا کیا پتا کہ کتنے گھنٹے لگا دیتے ہے تیار کروانے میں آپ خومخواہ ٹینشن نہ لے میں آپ کے لیے چاۓ بجھواتی ہوں۔
زرش کے تسلی سے بھی اسکو کچھ خاص تسلی نہ ہوٸ اسکا دل تب تک بے چین رہا جب تک فری نہ آگٸ۔
علقمہ تو اپنی فری کو پہچان ہی نہیں پایا اس پر اتنا روپ آیا تھا کہ علقمہ کہی لمحے تک نظر ہی نہیں ہٹا سکا فری کو دیکھ کر اسکے آنکھوں میں آنسٶں آگۓ شکرانے کے آنسو اگر آج فری نہ آٸ ہوتی تو اس سے آگے وہ سوچھ ہی نہیں پایا۔
زرش اور علقمہ فری کو لیکر سٹیج پر آگۓ جہاں رسم کی گٸ فری اور ارحم کی جوڑی سورج چاند کی جوڑی لگ رہی تھی لیکن فری ہر چیز سے بے خبر بیٹھی تھی جیسے وہ کوٸ بے جان مورت ہو زرش اور علقمہ تو اسی پر خوش تھے کہ اسنے کوٸ ہنگامہ نہیں کیا باقی وقت کے ساتھ ساتھ وہ خود ہی ٹھیک ہوجاتی۔
فنکشن خیر وعافیت سے گزرا تو ان سب نے شکرانے کی نفل ادا کی۔
اس دن وہ سب ناشتہ کررہے تھے جب فری عبایا پہنے ناشتے کی ٹیبل پر آٸ۔
فری کہی جارہی ہو کیا۔
جی امی یونی جارہی ہوں فری نے کپ میں چاۓ انڈھیلتے ہوۓ کہا۔
علقمہ کا ناشتہ کرتے ہوۓ ہاتھ ایک پل کے لیے رکا جب سے وہ بات ہوٸ تھی اسنے فری کی یونی جانے پر پابندی لگا دی تھی۔
کیا مطلب یونی جارہی ہو اور کس سے پوچھ کر جارہی ہو تمہارے ابو نے منع کیا تھا تمہیں یونی جانے سے زرش نے بہ مشکل غصے پر قابو پاتے ہوۓ کہا۔
او پلیز امی اب تو میں نے آپ لوگوں کے کہنے پر منگنی کرلی اب یہ پابندی کس لیے فری نے زور سے کپ میز پر رکھا جس سے چاۓ چلک کر ادھر ادھر گر گٸ۔
ابھی زرش کچھ سخت کہنے کا ارادہ کررہی تھی کہ علقمہ کے اشارہ کرنے پر چھپ ہوگٸ۔
فری آرام سے ناشتہ کرو میں آفس جاتے ہوۓ تمہیں یونی چھوڑ دونگا علقمہ نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
فری نے چونک کر علقمہ کی طرف دیکھا علقمہ کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا جس سے وہ کوٸ نتیجہ نہیں اخذ کر پاٸ۔
تھینکیو سو مچ بابا وہ خوشی خوشی ناشتہ کرنے لگی۔
 زرش کچھ دیر خاموش نظروں سے علقمہ کو دیکھنے کہ بعد وہاں سے اٹھ گٸ اسکی بھوک ختم ہوگٸ تھی۔
دسمبر کا مہینہ شروع ہونے کے ساتھ ہی بارشیں بھی شروع ہوگٸ تھی اس دن کافی دنوں بعد دھوپ نکلی تو زرش نے ماسی کو اپنے ساتھ لگا کر سارے کپڑے پردے وغیرہ دھو ڈالے۔
کپڑے دھونے کے بعد اسنے جلدی سے سالن چولہے پر چڑھایا اور ساتھ میں آٹا گھوندنے لگی کوکنگ وہ خود کرتی تھی کیونکے علقمہ اور بچے صرف اسی کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھاتے تھے جب کہ صفاٸ اور کپڑے دھونے کے لیے اسنے ماسی رکھی ہوٸ تھی۔
سالن پکانے کے بعد اسنے آنچ بند کرلی اور مونگ پلی کی ٹوکری اٹھا کر ہال میں آگٸ ابھی اسے بیٹھے ہوۓ کچھ دیر ہوٸ ہوگی کہ اسے فری کا خیال آیا کہ آج تو وہ یونی نہیں گٸ تو کیا ابھی تک سورہی ہے وہ مونگ پھلیوں کی ٹوکری ایک ساٸیڈ پر رکھتے ہوۓ اٹھ کھڑی ہوٸ تاکہ فری کا اٹھا لے۔
اس نے دروازے کو ہاتھ لگایا تو وہ کھلتا چلا گیا فری دھیمی آواز میں کسی سے فون پر بات کر رہی تھی اس پر نظر پڑھتے ہی ایک دم سے اس کا رنگ اڑ گیا جیسے اسکی چوری پکڑی گٸ ہو اسنے جلدی سے موباٸل آف کیا۔
زرش کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا لیکن اسنے فری پر ظاہر نہیں ہونے دیا۔
فری بیٹا اٹھ گٸ ہو تو میں تمہارے لیے ناشتہ بناتی ہوں تم تب تک فریش ہو کر نیچے ہال میں آجاٶ زرش نے اپنے لہجے کو نارمل رکھا۔
فری کچھ دیر اسکے چہرے کی طرف دیکھتی رہی لیکن کوٸ نتیجہ نہ اخذ کرنے کے بعد اٹھ کر باتھ روم میں گھس گٸ۔
زرش جو سمجھ رہی تھی کہ منگنی کہ بعدسب کچھ ٹھیک ہوجاۓ گا یہ اسکی غلط فہمی تھی اب اسے علقمہ سے بات کرکے کوٸ حتمی فیصلہ لینا چاہیے وہ بھاری بھاری قدموں سے کچن کی طرف آگٸ۔
*************************
وہ علقمہ مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے زرش نے چاۓ کا کپ علقمہ کو تھماتے ہوۓ کہا۔
ہوں کہوں علقمہ جو آفس کا کوٸ کام لیپ ٹاپ پر کر رہا تھا مصروف سی آواز میں کہا۔
علقمہ مجھے لگتا ہے ہمیں اب فری کےسسرال والوں سے بات کر کے فری کی شادی کی ڈیٹ فکس کروادینی چاہیے۔

کیوں خیریت۔
 علقمہ نے لیپ ٹاپ بند کرکے چاۓ کا کپ لبوں سے لگاتے ہوۓ پوچھا۔
ہاں وہ لوگ کافی بار کہ چکے ہیں اب منگنی کو بھی کافی عرصہ ہوچکا ہے اب ہمیں اور دیر نہیں کرنا چاہیے ۔
زرش بےوقوفوں والی باتیں مت کرو فری کی پڑھاٸ کمپلیٹ ہونے تک دوبارہ شادی کی بات تمہارے منہ سے نہ سنو میں پہلے بھی اسکی منگنی کہ حق میں نہیں تھا لیکن تمہارے کہنے پر میں نے اسکی منگنی کردی۔
اب شادی تو میں اسکے سٹڈی کمپلیٹ ہونے کے بعد ہی کرونگا علقمہ نے دو ٹوک جواب دیا اور دوبارہ کام میں مصروف ہوگیا۔
زرش کچھ پل اسے خاموشی سے دیکھتی رہی کہ آیا وہ بات علقمہ کو بتادے یا نہیں وہ علقمہ کو ٹینشن نہیں دینا چاہتی تھی لیکن اب تو ضروری ہوگیا تھا اسے بتانا۔
علقمہ فری اب بھی اس لڑکے سے بات کرتی ہے۔
علقمہ کے کام کرتے ہاتھ ایک پل کے لیے تھم گۓ اسنے بے یقینی سے زرش کو دیکھا زرش یہ کیا مزاق ہے تم اسکی شادی کروانے کے لیے جھوٹ بول رہی ہو نہ۔
او کم آن علقمہ فری میری بھی بیٹی ہے وہ مجھ پر بوجھ نہیں ہے لیکن بات کو سمجھو کہی ایسا نہ ہو کہ ہم بعد میں ہاتھ ملتے رہ جاۓ۔
کچھ دیر خاموشی کے بعد علقمہ جب بولا تو اسکے آواز میں ٹوٹے اعتبار کی کرچیاں تھی۔
بولا لو ان لوگوں کو اور کوٸ نزدیک سی تاریخ دے دو ان لوگوں کو شادی کی۔
علقمہ کا دل اب ہر چیز سے اچاٹ ہوگیا تھا اسنے لیپ ٹاپ بند کرکے ساٸیڈ پر رکھا اور لیٹ گیا۔
زرش کو ابھی ان سے کچھ اور بھی کہنا تھا لیکن علقمہ نے لاٸٹ آف کرنے کا کہا اور کروٹ لے کر لیٹ گیا دو آنسو نکل کر انکے گریبان میں جزب ہوگۓ۔
زرش لاٸٹ آف کرکے باہر نکل آٸ اب اسے پہلا کام فری کے سسرال والوں کو فون کرنے کا کرنا تھا۔

اگلی صبح سب ناشتے پر موجود تھے بچے سب ناشتہ کرنے میں مصروف تھے علقمہ چاۓ کا کپ ہاتھ میں لیے کسے گہرے سوچھ میں ڈوبے تھے۔
علقمہ ناشتہ کرے نہ ٹھنڈا ہوجاۓ گا۔
زرش کی آواز پر اسنے چونک کر زرش کو دیکھا اور ہوں کہہ کر چاۓ کا کپ لبوں سے لگا لیا۔
زرش تم نے فری کے سسرال والوں سے بات کی وہ بات زرش سے کر رہا تھا لیکن نظریں فری پر تھی جسکے ہاتھ ایک پل کے لیے رکے لیکن پر وہ ناشتہ کرنے میں ایسے مصروف ہوگٸ جیسے ناشتہ کرنے کے علاوہ کوٸ اور ضروری کام نہ ہو۔
ہاں میں نے کل انہیں فون کرکے آج لنچ پر بلا لیا ہیں۔
ہوں یہ ٹھیک کیا تم نے۔
اچھا بابا میں چلتی ہوں اللہ حافظ۔
فری تم آج سے یونيورسٹی نہیں جاوگی آج تمہارے سسرال والے شادی کے ڈیٹ لینے آرہے ہیں اور ہم انہیں قریب کی کوٸ تاریخ دے کر تمہیں رخصت کرنے کا سوچھ رہے ہیں علقمہ نے فری کے چہرے پر نظر ٹکاتے ہوۓ کہا۔
فری نے بے یقینی سے ان دونوں کی طرف دیکھا۔
بابا میں اتنی جلدی شادی نہیں کرونگی ابھی میری سٹڈی بھی کمپلیٹ نہیں ہوٸ فری نے چڑچڑے پن سے کہا۔
پڑھاٸ تم شادی کے بعد بھی کرسکتی ہو انہیں تمہاری پڑھاٸ کرنے پر کوٸ اعتراض نہیں علقمہ نے بات ہی ختم کردی۔
فری کچھ پل غصے سے انہیں دیکھتی رہی اور پر پیر پٹختی ہوٸ اپنے روم میں چلی گٸ۔
شادی کی تیاریاں شروع ہوگٸ تھی وقت کم تھا اور کام زیادہ روز ہی تاشہ اور زرش کے بازاروں کے چکر لگتے فری نے تو صاف انکار کردیا تھا کہ وہ بازار نہیں جاٸگی ایسا لگ رہا تھا جیسے شادی اسکی نہیں کسی اور کی ہو۔
اس دن بھی صبح کے گۓ شام کو جب وہ دونوں بازار سے لوٹ آٸ تو بہت تھک چکی تھی شادی میں بس کچھ دن رہ چکے تھے آج وہ لوگ درزی سے کپڑے لینے گٸ تھی۔
تاشی بہت تکھن ہورہی ہے جاٶ دو کپ چاۓ تو بنا لاٶ اپنے لیے اور میرے لیے۔
تاشہ کو کچن میں بھیج کر وہ کپڑے لیکر فری کے کمرے میں آگٸ۔
فری کمرے میں نہیں تھی باتھ روم کا دروازہ بند تھا جسکا مطلب فری اندر تھی۔
وہ وہی فری کے بیڈ پر کپڑے پھیلا کر دیکھنے لگی تب تک تاشہ بھی چاۓ لیکر وہی آگٸ۔
امی دکھا دیے کپڑے آپی کو۔
نہیں وہ باتھ روم میں ہے۔
اتنی دیر سے تاشہ نے حیرانگی سے پوچھا تو زرش نے چونک کر تاشہ کو دیکھا اور جلدی سے اٹھ کر باتھ کی طرف بڑھی ابھی اسنے دروازہ کھٹکھٹانے کے لیے دروازے پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ دروازہ کھل گیا۔
فری باتھ روم میں نہیں تھی زرش کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا وہ وہی زمین پر دھپ سے بیٹھ گٸ۔
امی کیا ہوا آپ ٹھیک تو ہے تاشہ نے جلدی سے اسے تھاما۔
تاشہ فری فری نہیں ہے اندر۔
امی کیا ہوا باہر ہوگی میں دیکھتی ہوں آپ اتنا گبھرا کیوں رہی ہے۔
 فری کی افٸیر کی بات علقمہ اور زرش کے علاوہ کسی اور کو معلوم نہیں تھی۔
تاشہ دوڑ کر باہر گٸ لیکن فری کہی بھی نہیں تھی تاشہ نے اسکے فون پر بھی ٹراٸ کیا لیکن اسکا موباٸل سوٸچ آف آرہا تھا۔
زرش کا دل ڈوب رہا تھا انہیں اپنی عزت جاتی ہوٸ محسوس ہورہی تھی۔

جاری ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے