ناول: آہ (قسط 1)

آہ
از_ناز_خان
قسط_نمبر_01


دیکھو فری میرا دماغ خراب مت کرو جلدی سے یہ کھانا کھالو۔
میں نے کہا نہ بھوک نہیں ہے مجھے لیجاۓ کھانا یہاں سے فری نے منہ پھولاتے ہوۓ کہا ۔
فری دیکھو بیٹا ضد نہیں کرتے ہم تمہارے والدین ہیں تمہارا برا تو نہیں چاہنگے تم ابھی چھوٹی ہو تمہیں نہیں پتا کہ تمہارے لیے کیا اچھا ہے اور کیا برا زرش نے ایک بار پر کوشش کی کہ شاید فری مان جاۓ اسنے فری کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا جو فری نے بے دردی سے دور ہٹایا۔
یہ پیار محبت کے ڈکھوسلے کم از کم میرے سامنے تو نہ کرے میں بالغ ہوں مجھے پتا ہے کہ میرے لیے کیا اچھا ہے اور کیا برا یہ میری زندگی ہے مجھے اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے دے فری نے بتمیزی سے کہا تو زرش جو کہ بہ مشکل غصہ پر قابو پایے ہوۓ تھی ایک دم سے پھٹ گٸ۔
میری بھی ایک بات کان کھول کر سن لو تم مر ہی کیوں نہ جاٶ تب بھی ہم تمہاری شادی اس دو ٹکے کے سرکاری ملازم سے نہیں کرواینگے بلاتی ہوں تمہارے باپ کو اب وہی تم سے نمٹے غضب خدا کا کل کے لونڈے کے لیے اپنے والدین سے لڑ رہی ہے زرش بڑبڑاتے ہوۓ باہر نکل گٸ۔
پیچھے فری نے ایک منٹ ضائع کیے بنا زور سے دروازہ بند کیا۔

کھانا لگا دو آپ کے لیے ۔
فری نے کھا لیا؟
نہیں وہ کہہ رہی ہے کہ مجھے بھوک نہیں ہے زرش نے آنکھیں چراٸ۔
علقمہ جو کہ آستین فولڈ کررہا تھا زرش کی بات پر کچھ پل کے لیے اسکے ہاتھ رک گۓ۔
تم کھانا لگاٶں میں فری کو لیکر آتا ہوں۔
لیکن۔۔۔
 زرش نے اسے روکنا چاہا لیکن وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا زرش مرے مرے قدموں سے کچن میں آگٸ وہ بے دیحانی میں کھانا گرم کرنے لگی اسے ڈر تھا کہ فری آپنے باپ سے بتمیزی نہ کرلے۔

علقمہ نے دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا جو کے اندر سے بند تھا اسنے ناک کیا لیکن جواب ندارد۔
فری بیٹا دروازہ کھولو میں تمہارا بابا کیا اپنے بابا سے بھی بات نہیں کروگی۔
فری نے کوٸ جواب نہیں دیا۔
دیکھو فری جب تک تم دروازہ نہیں کھولو گی میں یہی کھڑا رہونگا اس بارعلقمہ کی دھمکی نے کام کر دکھایا فری نے دروازہ کھول دیا۔
فری کی سوجی سوجی آنکھیں بکھرے بال دیکھ کر علقمہ کے دل کو کچھ ہوا لیکن اسنے جلد ہی خود پر قابو پایا۔
یہ ہوٸ نہ بات چلو اب کھانا کھاتے ہیں میں نے بھی تمہاری وجہ سے ابھی کھانا نہیں کھایا ۔
فری کو انکا یہ محبت بھرا لہجہ سب ایک ڈکھوسلہ لگا۔
مجھے بھوک نہیں ہے بابا آپ جاکر کھالے فری نے بھراٸ ہوٸ آواز میں کہا۔
سب کو اسکے کھانے کی فکر تھی لیکن اسکی فکر نہیں تھی کہ وہ سب کس طرح اسکے دل کا خون کررہے ہیں۔
بالکل بھی نہیں جب تک تم کچھ نہیں کھاٶگی میں بھی نہیں کھاٶنگا۔
بابا مجھ سے کچھ نہیں کھایا جاٸیگا پلیز مجھے مجبور نہ کرے اسنے بھراٸ ہوٸ آواز میں کہا اور بھاگ کر دوبارہ دروازہ بند کرلیا۔
جبکے علقمہ ہق دق رہہ گیا۔
وہ غاٸب دماغی کے ساتھ ڈاٸننگ ٹیبل تک آیا۔
کیا ہوا نہیں آٸ وہ زرش کی بات پر اسنے چونک کر زرش کو دیکھا جو اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
زرش اگر اسی طرح چلتا رہا تو ہماری فری تو مرجاٸگی علقمہ نے دکھی لہجے میں کہا۔
اس عزاب میں روز روز مرنے سے اچھا ہے کہ وہ ایک دن میں ہی مرجاۓ وہ کم عقل ہے اسے اپنا اچھا برا نہیں پتا تو کیا ہم بھی اسکی بے وقوفی میں شامل ہوجاۓ زرش نے غصے سے کہا۔
کہہ تو تم صحیح رہی ہو لیکن ہم اب کرے بھی تو کیا علقمہ نے پریشانی سے ماتھا مسلتے ہوۓ کہا۔
جو دو تین پرپوزل آۓ تھے فری کے لیے اسی میں کسی کو فاٸنل کرکے فری کی انگیجمنٹ کروادیتے ہیں شادی اسی سٹڈی کمپلیٹ کرنے کے بعد ہی کروادینگے اسطرح اسکا ماٸینڈ بھی تھوڑا چینج ہوجاۓ گا۔
ہوں یہ صحیح ہے علقمہ نے اسکی بات کی تاٸید کرتے ہوۓ کہا۔
بچے کہاں ہے۔
تاشہ اپنی دوست کی بھاٸ کے شادی میں گٸ ہے جبکے فیصل اور حمزہ کی دوستوں کے ساتھ گیٹ ٹو گیدر ہیں زرش نے تفصیل سے بتایا۔
ارے آپ نے کھانا تو کھایا ہی نہیں علقمہ کو کھانے کے ٹیبل سے بنا کچھ کھایے اٹھتے دیکھ کر زرش نے کہا۔
بھوک نہیں ہے ایک کپ چاۓ بنا کر لے آٶ سر میں درد ہے۔
جی ابھی بنا کر لاتی ہوں آج بھی کھانے کو کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا آج کتنے دن ہوگۓ روز ہی کھانا پکتا ہے لیکن کھایا براۓ نام ہی جاتا ہے کوٸ کھایے بھی تو کیسے جب ان کی لاڈلی بیٹی بھوکی رہے۔
علقمہ ایک بہت اچھے سرکاری عہدے پر فاٸز ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے باپ دادا کاروبار بھی سنبھال رکھا تھا گھر میں دولت کی ریل پیل تھی علقمہ جوانی میں بہت شوخ مزاج تھا بے پنا لڑکیوں کے ساتھ دوستی تھی لیکن شادی اسنے ماں باپ کے پسند سے ہی کی زرش ایک پڑھی لکھی باشعور لڑکی تھی اسنے علقمہ کی زندگی سنوارنے میں بہت اہم کردار ادا کیا وہ دونوں اپنی چھوٹی سے دنیا میں بہت خوش تھے اللہ نے انہیں دو بیٹے اور دو بیٹیاں دی سب سے بڑی فریحہ اسکے بعد نتاشہ اور پھر دو جڑواں بیٹے حمزہ اور فیصل تھے فریحہ میں تو علقمہ کی جان تھی وہ اسکی ہر جاٸز و ناجاٸز خواہشیں پوری کرتا تھا بچے سب ہی بہت تمیز والے تھے فریحہ تھوڑی ضدی تھی لیکن دل کی وہ بھی بری نہیں تھی بچے بڑے ہورہے تھے سب صحیح جارہا تھا فریحہ یونیورسٹی میں آگٸ تھی جب کہ باقی تینوں کالج میں۔
فریحہ یونی میں زیادہ لفٹ کسی کو نہیں کرواتی تھی وہ اپنے کام سے کام رکھتی تھی۔
کچھ دن سے ایک رانگ نمبر اسے بہت تنگ کررہا تھا وہ جو کوٸ بھی تھا اسکے روزمرہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوۓ تھا آج اسنے کس کلر کے کپڑے پہنے ہے کب وہ ہنسی کس کے ساتھ بیٹھ کر بات کی وہ پریشان کیوں تھی کالج کیوں نہیں آٸ العرض اس فارغ انسان کو شاید اسے تاڑنے کے علاوہ کوٸ کام نہیں تھا پہلے پہل تو وہ اسے اگنور کرتی رہی کہی بار دل میں آیا کہ ابو کو بتادے لیکن پر کچھ سوچھ کر چھپ ہوجاتی وہ بھی اپنے نام کا ایک تھا جب تک فریحہ عرف فری اس سے دوستی کرنے پر راضی نہ ہوٸ تب تک ہاتھ دھو کر اسکے پیچھے پڑا رہا وہ فری کی یونی میں لاٸبریرین تھا شکل کچھ خاص نہیں تھی نہ ہی اپنا گھر تھا لیکن کہتے ہے نہ محبت اندھی ہوتی ہے۔
فری جو پہلے یونیورسٹی سادہ سی جاتی اب ایک دم سے اپنی تیاری کا بہت خاص خیال رکھنے لگی اسکی اس تبدیلی کو زرش نے بھی محسوس کیا لیکن ہر ماں کی طرح انہیں بھی اپنی بیٹی پر اعتبار تھا کہ اسکی بیٹی انہیں دھوکہ نہیں دے سکتی
لیکن اس وقت انکی ساری خوش فہمی دور ہوگٸ جب علقمہ کے بھتیجے کا رشتہ فری کے لیے آیا رشتہ سب کو پسند تھا انہوں نے جب فری سے پوچھا تو اسنے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وہ کسی اور سے محبت کرتی ہے اور شادی بھی اسی سے کری گی تب علقمہ اور زرش کا غرور جیسے چکنا چور ہوگیا لیکن انہوں نے کہا کچھ نہیں اور فری سے کہا کہ وہ ہاشم سے کہے کہ وہ گھر والوں کو بھیج دے وہ بچوں پر زبردستی کرنے کے قاٸل نہیں تھے فری نے خوشی خوشی ہاشم کو گھر آنے کا کہا اگلے ہی دن ہاشم اپنی ماں اور بہن کے ساتھ حاضر تھا ہاشم کو دیکھ کر علقمہ اور زرش کو بہت بڑا جھٹکا لگا انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ انکی بیٹی کی پسند ہے ہاشم تقریباً پینتالیس پچاس سال کا مرد تھا اسکا سر آگے سے گنجا تھا اوپر سے اسکی مالی حالت اتنے خراب تھے کہ وہ دو کمروں کے کرایے کہ مکان میں رہہ رہے تھے وہ ان سب باتوں کو اگنور بھی کردیتے اگر ایج کا مسٸلہ نہ ہوتا وہ کیسے اپنی نازو پلی بیٹی کو اس سے بیاہ دیتے لیکن فری کہ آنکھوں پر تو محبت کی پھٹی ہاشم نے باندھ رکھی تھی وہ کچھ بھی سمجھنا نہیں چاہتی تھی کہی دنوں سے نہ وہ کچھ کھا رہی تھی اور نہ ہی کسی سے بات کررہی تھی ۔

اگلےکچھ دنوں میں زرش نے خوب چھان بن کرکے ان چند رشتوں میں سے ایک کے لیے ہاں کردی فری کو جب پتا چلا تو خوب واویلا کیا لیکن کسی نے اسکی ایک نہیں سنی علقمہ نے تو یہاں تک کہ دیا کہ اگر اسنے کچھ الٹا سیدھا کیا تو اسکا مرا منہ دیکھی گی علقمہ کی دھمکی دینے کے بعد فری خاموش ہوگٸ اسنے دوبارہ کوٸ ایشو کھڑا نہیں کیا زرش اور علقمہ نے تو اسکو ہی غنمیت جانا اور منگنی کی تیاری کرنے لگے فری نے سب کچھ ان لوگوں پر چھوڑ دیا تھا منگنی کی ساری شاپنگ تاشہ اور زرش نے فری کے سسرال والوں کے ساتھ مل کر کی حالانکے فری کے سسرال والوں کا بہت دل تھا کہ فری خود انکے ساتھ جاکر منگنی کی شاپنگ کرلے لیکن زرش نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ فری بہت شرمیلی ہے۔
اس دن علقمہ کی طبیعت کچھ خراب تھی تو جلدی سوگیا ابھی بہ مشکل اسکی آنکھ لگی تھی جب اسنے ایک عجیب خواب دیکھا خواب میں وہ کیا دیکھتا ہے کہ اسکی ساری فیملی کسی خوبصورت جگہ گٸ ہوٸ ہوتی ہیں جو کہ بہت ہی خوبصورت جگہ ہوتی چاروں طرف ہریالی کے درمیان سفید پانی کا چشمہ بہہ رہا ہوتا ہے درختوں پر بہت بڑے بڑے پھل لگے ہوتے ہیں جو کہ اسنے کم از کم عام زندگی میں نہیں دیکھے تھے خوشی کا ماحول ہوتا ہے وہ سب ایک دوسرے کے ساتھ بہت انجواۓ کررہے ہوتے ہیں کہ ایک دم سے ہی آسمان گہرے کالے بادلوں سے ڈھک جاتا ہے وہ سب ایسے خوفناک بادل دیکھ کر ڈر جاتے ہیں وہ سب وہاں سے بھاگ جانے کا سوچھ رہے ہوتے ہے کہ ایک دم سے چاروں طرف اندھیرا ہوجاتا اور پھر تیز آندھی آجاتی ہے جو ہر شے کو اڑا لے جاتی ہے وہ سب اپنی جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگتے ہیں کچھ دیر بعد آندھی رک جاتی ہے ہر چیز ایسے صاف ہوجاتی ہے جیسے آٸ ہی نہ ہو لیکن وہ ہریالی ہر چیز ایسے غاٸب ہوجاتی ہے جیسے خزاں کا موسم ہو وہ ادھر ادھر اپنے بچوں اور بیوی کو دیوانوں کی طرح ڈھونڈتا ہے لیکن وہ پتا نہیں کہاں غاٸب ہوجاتے ہیں وہ زوز زور سے چلاتا ہے تب ہی اسکی آنکھیں کھل جاتی ہے اسکی سانس ابھی تک پھولی ہوٸ تھی اسنے جلدی سے جگ سے پانی گلاس میں انڈھیلا اور ایک ہی سانس میں سارا پانی پی لیا اسکا سارا جسم پسینے میں نہایا ہوا تھا اب دوبارہ اتنی جلدی نیند آنا ممکن نہیں تھا اسلۓ وہ دبے پاٶں کمرے سے باہر نکل آیا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے