ناول: چینجلنگ (قسط 3 آخری)

ناول: چینجلنگ
از قلم: سید ذیشان حیدر
تیسری اور آخری قسط 


وہ تھوڑی دیر کے لیئے خاموش ہوگیا۔میرا تجسس بڑھنے لگا۔اس نے ایک گہری نظر مجھ پر ڈالی۔پھر اپنی کہانی شروع کی:
"فون پر میری بیوی تھی۔وہ بری طرح رو رہی تھی۔بڑی مشکلوں سے اس نے فوراً مجھے گھر آنے کا کہا۔میں نے فون کاٹتے ہی پریشان نظروں سے ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔اس نے معاملے کی سنگینی سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔میں فوراً باہر کی جانب بڑھا۔تبھی ڈاکٹر نے مجھے آواز دی۔میں نے رک کر بے چینی سے اس کی طرف دیکھا۔وہ بولا:
"ایک طریقہ ہے البتہ اس سے جان چھڑوانے کا۔۔۔۔۔"
اس نے وقت اور الفاظ کا خیال رکھتے ہوئے مجھے وہ طریقہ بتایا۔تاہم میں کسی بھی صورت اس پر عمل نہیں کرسکتا تھا۔سو وہاں سے نکل آیا۔
جیسے گھر کی دہلیز پر قدم رکھا ایک خوفناک احساس نے جکڑ لیا۔اپنی بوکھلاہٹ پر قابو پاتے ہوئے میں گھر کے اندر داخل ہوا اور اپنی بیوی کو آوازیں دینے لگا۔گھر ایک بھیانک قسم کے سناٹے کا شکار تھا۔اس بات نے مجھے مزید خوف میں مبتلا کردیا۔میں گھر کے اندر بیوی کو آوازیں دیتا اِدھر اُدھر بھاگنے لگا۔تبھی میرے کانوں میں ایک شور کی سی آواز پڑی۔اندازہ لگاتے ہوئے میں اس آواز کی جانب بڑھا۔وہ آواز سٹور کی طرف سے آرہی تھی۔میں دوڑ کروہاں پہنچا۔سٹور کا دروازہ باہر سے بند تھا۔میں تذبذب کا شکار ہوگیا۔۔۔۔مجھے کنفرم نہیں ہورہا تھا کہ آیا سٹور میں میری بیوی تھی یا پھر وہ مخلوق؟؟؟؟؟ کچھ دیر سوچنے کے بعد میں نے دروازہ کھولنے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔مگر۔۔۔۔جیسے ہی وہ دروازہ کھولا۔۔۔۔!!!"
اس کی خالی خالی آنکھیں نم ہونے لگیں۔آواز بھی لڑکھڑانے لگی۔شاید وہ کچھ دیر چپ رہ کر اس منظر کو جذب کرنا چاہتا تھا، جو وہ آگے بتانے والا تھا۔میں نے اپنی طرف پڑی پانی کی بوتل سے اس کے گلاس میں پانی بھرا۔چند گھونٹ پانی پینے کے بعد اس نے ایک گہری سانس لی اور پھر دھیمی آواز میں بولا:
"جیسے ہی دروازہ کھولا۔۔۔۔۔میں نے دیکھا کہ میری بیوی کا سر تن سے جدا ہوکر ذمین پر آرہا!!!!
وہ مخلوق۔۔۔انتہائی ظالم،شاطر اور چلاک تھی۔مجھے کافی دیر بعد سمجھ آیا کہ ہوا کیا تھا!!! اس نے شیشے کی ایک باریک مگر انتہائی تیز دھار تار میری بیوی کی گردن پر لپیٹی اور دوسرا سرا دروازے کے ساتھ اس طرح باندھا کہ جیسے ہی دروازہ کھلے اس تار میں ایک جھٹکے کے ساتھ تناو آجائے۔میری بیوی کے ہاتھ بندھے ہوئے اور ہونٹ۔۔۔۔سلے ہوئے تھے۔۔۔۔ سو وہ بول بھی ناسکی۔میرے دروازہ کھولتے ہی وہ تیز دھار تار اس کی گردن کے اندر تک اس طرح پیوست ہوئی کہ۔۔۔۔۔گردن ہی اڑا گئی!!!!"
اس کی بات سنتے ہی میرے پورے جسم میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔۔۔وہ منظر جیسے میری آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چلنے لگا۔
"اب میرا سب کچھ ختم ہوچکا تھا۔۔۔۔تبھی مجھے اس مخلوق کا خیال آیا۔۔۔وہ کہاں تھی؟؟؟؟ اور میری ماں؟؟؟؟کہیں۔۔۔؟؟؟؟ یہ خیال آتے ہی میں وہاں سے الٹے پاوں باہر کی جانب بھاگا۔ماں کا گھر کچھ ہی فاصلے پر تھا۔راستے میں ایک بار کال کرنے کی کوشش کی۔مگر ماں نے رسیو نا کی!!!! میرے خدشات مزید بڑھنے لگے۔ماں کے گھر پہنچتے ہی میں دیوانوں کی طرح اسے آوازیں دینے لگا۔۔۔تبھی مجھے کچن سے کچھ عجیب سی آوازیں آئیں۔جیسے ہی میں کچن کی طرف بڑے ایک ناخوشگوار قسم کی بو میرے نتھنوں سے ٹکرائی۔۔۔۔کاش میں نے وہ منظر نا دیکھا ہوتا!!!! کاش میں اس دن ہسپتال نا گیا ہوتا!!!"
اب اس کی آنکھوں سے باقاعدہ آنسو جاری تھے۔میں نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور ہلکا سا دباو دیا۔وہ اپنی کرسی سے اٹھ کر دیوار کی جانب بڑھا۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے گردن گھمائی اور پوچھا:
"سگریٹ ہوگی آپ کے پاس؟"
میں نے فوراً اپنی جیب سے پیک نکالا اور دو سگریٹ نکالے۔ایک سلگا کر اس کی جانب بڑھایا اور ایک اپنے لیئے رکھی۔سگریٹ کا دھواں فضاء میں اڑاتے ہوئے اس نے پوچھا:
"آپ کے لیئے دنیا میں سب سے عزیز ہستی کون ہے؟"
"میرے والدین۔۔۔۔"
میں نے جواب دیا۔ 
"میرے لیئے بھی۔۔۔۔خیر۔۔۔۔میں جیسے ہی کچن میں پہنچا۔۔فرش پر جابجا خون تھا۔۔۔بیسن پر نظر پڑی تو وہاں سے خون کے قطرے ٹپک رہے تھے۔۔۔میں کانپتا ہوا بیسن کی جانب بڑھا تو۔۔۔۔اس میں۔۔۔کٹے ہوئے ہاتھ پڑے تھے۔۔۔۔میری ماں کے!!!!! میرے منہ سے ایک زوردار چیخ نکلی۔۔۔۔۔۔شاید میں وہ مناظر صحیح طرح سے بیان نا کرپاوں۔۔۔بس اتنا جان لیں کہ۔۔۔جس طرف بھی نظر پڑتی۔۔۔۔۔"
وہ پھر چپ ہوگیا۔۔۔۔میں اس کی بات سمجھ چکا تھا۔۔۔وہ واقعی سچا تھا۔۔۔۔اور میں شاید دنیا کا وہ آخری انسان تھا جو اس کی ایک ایک بات پر یقین کرسکتا تھا۔۔۔اس کا لہجہ،بیان کیئے گئے واقعات۔۔۔کوئی بھی انسان اتنا سب کچھ اپنی طرف سے نہیں بنا سکتا تھا۔
"پھر۔۔۔۔؟؟؟"
میں نے پوچھا۔
"پھر۔۔۔میں ادھر ہی بیٹھ گیا۔۔۔روتا رہا۔۔۔بہت دیر تک روتا رہا۔۔۔۔بالآخر جب دل کا بوجھ ہلکا ہوا تو میرے اندر انتقام کی آگ بھڑکنے لگی۔میں اس مخلوق کو تلاش کرتا رہا۔مگر وہ غائب تھی۔۔۔۔سو میں نے چپ چاپ۔۔۔اپنی ماں اور پھر بیوی۔۔۔۔ انہیں سمیٹا۔۔۔۔انتہائی رازدرانہ انداز ان کا کفن دفن کیا گیا۔۔۔۔یہ سب کچھ انتہائی خاموشی سے کیا۔۔۔دن گزرنے لگے۔۔۔وہ مخلوق غائب رہی۔۔۔۔انتقام کی خواہش مجھے پل پل بے چین کرنے لگی۔۔۔۔ڈاکٹر کے مطابق وہ مخلوق ہمارے پیچھے ہی رہنی تھی۔۔۔سو اسی امید کے تحت میں اس کی واپسی کا انتظار کرنے لگا۔پھر ایک رات۔۔۔۔وہ واپس آئی۔۔۔۔میں اپنے کمرے میں لیٹا ہوا تھا۔رات کے کوئی دو بجے تھے۔اچانک ٹی۔وی چلنے کی آواز آئی۔میں فوراً محتاط ہوگیا۔احتیاطاً دراز میں پڑا اپنا پسٹل اٹھایا اور دبے قدموں ٹی۔وی لاونج کی جانب بڑھا۔ٹی۔وی تو چل رہی تھی مگر وہاں کوئی نا تھا۔میں نے پورے لاونج میں نظر دوڑائی کوئی نظرنا آیا۔ تبھی میری نظر چھت کے کونے پر پڑی۔۔۔۔مہروز تھا۔۔۔۔وہ چھت کے کونے پر انتہائی عجیب انداز میں بیٹھا مجھے گھور رہا تھا۔میں نے بغیر وقت ضائع کیئے پسٹل کا رخ اس کی طرف کیا اور دو تین فائر کردیئے۔مگر تب تک وہ مخلوق وہاں سے چھلانگ لگا کر میرے سامنے پہنچ چکی تھی۔میں بوکھلا کر چند قدم پیچھے کی جانب ہٹا۔وہ بھی آگے کی طرف بڑھی۔تبھی اس نے مجھے دھکا دیا۔۔۔۔وہ انتہائی طاقتور تھی۔۔۔

میں ایک بار فضاء میں اچھل کر دور جاگرا۔وہ تیزی سے دوڑتی ہوئی میری جانب بڑھی۔میں نے اِدھر اُدھر ہاتھ گھمایا۔میرے ہاتھ انگیٹھی کے ساتھ پڑے لوہے کا ایک راڈ لگ گیا۔میرے نزدیک پہنچ کر جیسے ہی اس نے مجھ پر چھلانگ لگائی میں نے وہ راڈ سامنے کردیا۔۔۔۔راڈ سیدھا اس کی گردن میں پیوست ہوگیا۔۔۔۔لوہے کا وہ راڈ۔۔۔۔چند انچ تک اس کی گردن میں دھنس گیا۔انتہائی خوفناک آوازیں نکالتے ہوئے وہ مخلوق ایک طرف کو لڑھک گئی۔میں فوراً اپنی جگہ سے اٹھا اور باہر باغیچے کی جانب بھاگا۔ وہاں پڑا بیلچہ اٹھا کر میں واپس پلٹا۔مگر تب تک وہ مخلوق بھی کھڑی ہوچکی تھی۔اس کی گردن سے خون بہہ رہا تھا اور لوہے کا خون آلود راڈ اس کے ہاتھ میں تھا۔وہ انتہائی غضبناک انداز میں میری طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔۔میں بیلچے پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے چند قدم آگے کی جانب بڑھا۔مجھے آگے بڑھتا دیکھ وہ میری جانب دوڑی۔اس سے پہلے کہ میرے نزدیک پہنچتی، میں نے اپنی بھرپور طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیلچہ اس کی جانب اچھالا جو سیدھا اس کے منہ پر جالگا۔وہ فرش پر جاگری۔وقت ضائع کیئے بغیر میں نے دوڑ کربیلچہ اٹھایا اور اس کے سر پر وار کرنے شروع کردیئے۔پورا گھراس کی خوفناک چیخوں سے گونج اٹھا۔میں تب تک وار کرتا رہا جب تک میرے مسلز جواب نادے گئے۔اس کا سر پچک چکا تھا۔۔۔۔وہ مخلوق مردہ حالت میں میرے سامنے پڑی تھی۔۔۔۔مگر ابھی ایک کام باقی تھا۔۔۔۔"
میں اس شخص کی ہمت اور اس کے حوصلے کا قائل ہوچکا تھا۔یہ سب اگر میرے ساتھ ہوتا تو شاید اب تک میں پاگل ہوچکا ہوتا۔
"میں اس کے مردہ جسم کو گھسیٹتے ہوئے کچن میں پہنچا۔اس فرش پر رکھ کر میں نے الماری سے وہ نیا اور تیز دھار ٹوکہ نکالا جو اس لمحے کے لیئے ہی خریدا تھا۔اس وقت میرے اندر کا انسان مرچکا تھا۔۔۔۔میں آرام سے فرش پر بیٹھا اور اس کے جسم پر تب تک ٹوکہ چلاتا رہا جب تک وہ گوشت کے لوتھڑوں میں تقسیم نا ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔!!!"
کہانی ختم ہوچکی تھی۔۔۔میں صدمے کی سی کفیت میں بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔تبھی بیل بجی۔۔۔ملاقات کا وقت ختم ہوچک تھا۔وہ اپنی بات مکمل کر چکا تھا جبکہ میرے پاس بولنے کو کچھ نا تھا سو میں چپ چاپ اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔!!!
جیسے باہر آیا ڈیوٹی پر کھڑا ایک سپاہی آواز لگاتے ہوئے میری جانب دوڑا:
"آپ کو صاحب بلا رہے ہیں۔"
میں آفس میں پہنچا تو وہاں بیٹھا نوجوان انسپیکٹر فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
"میرے ساتھ آئیں۔۔۔۔آپ کو کچھ دیکھانا ہے۔"
ہم دونوں پولیس وین میں بیٹھے جو کہ مردہ خانے کی طرچ روانہ ہوگئی۔وہاں پہنچ کر وہ انسپیکٹر مجھے ایک کمرے میں لے گیا جو کافی ٹھنڈا تھا۔اندر لاشیں رکھی ہوئی تھیں۔ایک لاش کے قریب جاکر وہ کھڑا ہوگیا۔لاش کے جسم پر سفید کپڑا ڈالا ہوا تھا۔جیسے ہی اس نے وہ لاش کے منہ سے کپڑا سرکایا، میرے ہوش اڑ گئے۔۔۔۔وہ لاش بہروز کی تھی۔۔۔۔مہروز کا والد۔۔۔۔جس سے میں ابھی پوری کہانی سن کرآیا تھا۔
"یہ لاش یہاں کل رات پہنچائی گئی ہے!!!"
انسپیکٹر نے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا!!
ﺑﮩﺮﻭﺯ ﮐﯽ ﻻﺵ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻭﺳﺎﻥ ﺧﻄﺎ ﮨﻮﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﮭﭩﯽ ﭘﮭﭩﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﻧﺴﭙﮑﭩﺮ
ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ﻭﮦ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ۔
ﺗﮫ۔۔۔ﺗﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎﻝ ﮐﺮ ﮐﮯ"
"ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ۔۔۔ﻭﮦ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ؟؟؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ۔ﺗﺒﮭﯽ ﺍﻧﺴﭙﮑﭩﺮ ﮐﺎ ﻓﻮﻥ ﺑﺞ ﺍﭨﮭﺎ۔ﻓﻮﻥ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ
ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔
"!!!ﻭﮦ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﮯ"
ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﮨﯽ ﺭﮐﮯ ﺭﮨﮯ۔ﭘﮭﺮ ﻣﺮﺩﮦ ﺧﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﮔﺌﮯ۔۔۔۔ﻣﯿﮟ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﮐﯿﺎﻧﯽ ﺻﺎﺣﺐ۔۔۔۔
ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ" ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﺲ ﻧﮩﯿﮟ
ﺁﯾﺎ۔۔۔ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﺑﺘﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻮ "ﮐﯿﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ؟؟؟
ﺍﻧﺴﭙﮑﭩﺮ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔
ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﮯ ﭘﻮﺭﯼ
ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺳﻨﺎ ﺩﯼ۔
ﻣﮕﺮ ﺑﮩﺮﻭﺯ۔۔۔ﯾﻌﻨﯽ ﻣﮩﺮﻭﺯ ﮐﺎ" ﺑﺎﭖ۔۔۔ﻭﮦ ﺗﻮ ﻣﺮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔۔۔ﺍﺱ ﮐﯽ ﻻﺵ ﺗﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺁﺭﮨﮯ
ﮨﯿﮟ۔۔۔ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﮐﻮﻥ ﺗﮭﺎ؟؟؟؟ﺟﻮ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﺑﮩﺮﻭﺯ ﮐﺎ
ﮨﻤﺸﮑﻞ؟؟؟؟ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ؟؟؟ﺍﺱ
"ﮐﯽ ﺭﻭﺡ؟؟؟
ﺍﻧﺴﭙﮑﭩﺮ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔
"!!!!ﻭﮦ ﭼﯿﻨﺠﻠﻨﮓ ﺗﮭﺎ"
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔
ﻣﮕﺮ ﺍﺳﮯ ﺗﻮ ﺑﮩﺮﻭﺯ ﻣﺎﺭ ﭼﮑﺎ" "ﺗﮭﺎ؟؟؟
ﺑﮩﺮﻭﺯ ﻧﮯ ﺟﺴﮯ ﻣﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ"ﭼﯿﻨﺠﻠﻨﮓ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﯽ ﺑﯿﭩﺎ "!!!ﺗﮭﺎ
ﺍﻧﺴﭙﮑﭩﺮ ﻧﮯ ﭼﻮﻧﮏ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔
ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﻮ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮﭼﮑﺎ" ﺗﮭﺎ؟؟؟؟ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﮨﯽ ﺗﻮ
"!!!ﭼﯿﻨﺠﻠﻨﮓ ﻧﮯ ﻟﯽ ﺗﮭﯽ
ﮨﺎﮞ ﻭﮦ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ۔۔۔ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ" ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ۔۔۔ﭼﯿﻨﺠﻠﻨﮓ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻧﮩﯿﮟ۔۔۔
ﺍﺱ ﺳﺎﺭﮮ ﻋﺮﺻﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﮩﺮﻭﺯ ﭼﯿﻨﺠﻠﻨﮓ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮨﯽ
ﺭﮨﺎ!!!
ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ڈﺍﺋﯽ ﻣﯿﻨﺸﻦ۔۔۔ﯾﻌﻨﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ۔ﺟﺐ
ﺑﮩﺮﻭﺯ ﺑﯿﻠﭽﮧ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﻧﺪﺭ ﺁﯾﺎ۔۔۔
ﺟﺐ ﻣﮩﺮﻭﺯ ﻧﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ
ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ۔۔۔
ﺗﺐ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭼﯿﻨﺠﻠﻨﮓ ﮨﯽ ﺗﮭﺎ۔ﻣﮕﺮ
ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺑﯿﻠﭽﮧ ﻟﮕﺎ۔۔۔۔
ﭼﯿﻨﺠﻠﻨﮓ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ڈﺍﺋﯽ ﻣﯿﻨﺸﻦ ﺑﺪﻝ ﻟﯽ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﻟﻤﺤﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﻣﮩﺮﻭﺯ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ
ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﯼ!!! 
ﺑﮩﺮﻭﺯ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﻮﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻧﺎ ﺗﮭﺎ!!!!ﯾﺎ ﯾﻮﮞ ﮐﮩﮧ ﻟﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﭼﯿﻨﺠﻠﻨﮓ ﮨﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮨﺎ
ﺗﮭﺎ۔۔۔۔
ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﻤﻠﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﺎ۔۔۔ﺍﻭﺭ ﭼﯿﻨﺠﻠﻨﮓ ﺍﭘﻨﯽ ڈﺍﺋﯽ ﻣﯿﻨﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﯼ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺭﮨﯽ۔ﺟﺐ ﺑﮩﺮﻭﺯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﻣﺎﺭ ﭼﮑﺎ۔۔۔ﺍﺱ ﮐﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﭼﮑﺎ۔۔۔ﺗﺐ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﯽ ڈﺍﺋﯽ ﻣﯿﻨﺸﻦ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﯽ۔۔۔ﺑﮩﺮﻭﺯ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻟﯿﻨﮯ۔۔۔
ﻣﮕﺮ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ۔۔۔ﺳﻮ
ﺑﮩﺮﻭﺯ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﮯ
"!!!ﺍﺱ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﯽ
ﺍﻧﺴﭙﮑﭩﺮ ﺣﯿﺮﺕ ﺯﺩﮦ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ :ﺳﻨﺘﺎ ﺭﮨﺎ۔ﭘﮭﺮ ﺑﻮﻻ
ﻟﯿﮑﻦ ﺑﮩﺮﻭﺯ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﺍ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺱ" ﻧﮯ؟؟؟
ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﻏﺎﺋﺐ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻟﮯ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔۔۔۔ﭘﮭﺮ
"ﻣﺎﺭﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ؟؟؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﻠﮑﯽ ﺳﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻧﺴﭙﮑﭩﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔
ڈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ۔۔۔۔ﯾﮧ ﺗﺐ ﺗﮏ" ﭼﯿﻦ ﺳﮯ ﻧﺎ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮔﯽ ﺟﺐ ﺗﮏ
ﺍﺱ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﺎ ﺁﺧﺮﯼ ﻓﺮﺩ ﻧﺎ
"ﻣﺎﺭڈﺍﻟﮯ۔
ﺍﻧﺴﭙﮑﭩﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﺱ ﻧﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﮑﻮﮎ
:ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻻ
ﻣﻄﻠﺐ ﻭﮦ ﭼﯿﻨﺠﻠﻨﮓ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﮭﯽ"
ﺍﺩﮬﺮ ﮨﯽ ﮨﮯ۔۔۔ﺫﻧﺪﮦ ﮨﮯ۔۔۔ﯾﻌﻨﯽ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮ ﺷﮑﺎﺭ ﺑﻨﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ!!!!
ﮐﯿﺎﻧﯽ ﺻﺎﺣﺐ۔۔۔ﺍﮔﻼ ﺷﮑﺎﺭ
"ﮐﻮﻥ۔۔۔ﮐﻮﻥ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ؟؟؟
ﺷﺎﯾﺪ۔۔۔۔ﻣﯿﮟ۔۔۔ﻋﺎﻟﯿﺎﻥ"
"!!!ﮐﯿﺎﻧﯽ۔۔۔ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﮔﻼ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻼ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﺭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ
!!!!ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ😨

ﺧﺘﻢ ﺷﺪ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے