ناول: آہ (قسط 3)

آہ
از_ناز_خان
قسط_نمبر_03


امی میں نے گھر میں ہر جگہ دیکھ لیا آپی کہی بھی نہیں ہے اور نہ ہی اس کا فون لگ رہا ہےتاشہ نے گبھراٸ ہوٸ آواز میں کہا۔
زرش جو بہ مشکل خود کو سنبھالے ہوٸ تھی ایک دم سے کھڑے سے زمین پر گر سی گٸ اور سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
امی آپ ٹھیک تو ہے نہ آپ ایسے کیوں گبھرا رہی ہے میں اسکی فرینڈز کو کال کرتی ہوں وہ وہی کہی گٸ ہوگی۔
کہی نہیں ملی گی وہ اب کہی نہیں زرش منہ ہی منہ میں بڑبڑاٸ۔
 تاشہ بے یقینی سے ماں کو دیکھتے ہوۓ موباٸل اٹھا کر نمبر ڈاٸل کرنے لگی۔
تاشہ کسی کو فون کرنے کی ضرورت نہیں ہے تم فری الماری چیک کرو جلدی۔
زرش کی بات پر تاشہ نے حیرانگی سے زرش کو دیکھا لیکن زرش کے تاثرات بہت سخت تھے جس سے وہ کوٸ نتیجہ نہیں اخذ کرسکی وہ بے دلی سے الماری کھولنے لگی الماری کھولنے کے بعد اس کو چالیس والٹ کا جھٹکا لگا۔
ام ام امی الماری خالی ہے آپی کا زیور کپڑے کچھ بھی نہیں ہے تاشہ نے اٹکتے اٹکتے کہا۔
زرش کو آسمان اور زمین گھومتے ہوۓ نظر آرہے تھے اسنے دونوں ہاتھوں سے مظبوطی سے سر کو تھام رکھا تھا۔
امی امی آپ ٹھیک تو ہے تاشہ بھاگتی ہوٸ اس تک آٸ۔
ہاں مہ مہ میں ٹھیک ہوں تم جلدی سے اپنے بابا کو فون کر کے بلا لو۔
جی امی تاشہ بھاگ کر موباٸل اٹھا لاٸ۔
*************************
علقمہ غصے سے ادھر ادھر کمرے میں منڈھلا رہا تھا زرش اور تاشہ سر جکھاۓ بیٹھی تھی علقمہ نے سارا غصہ ان دونوں پر نکالا تھا۔
میری ساری عمر کی کماٸ ہوٸ عزت وہ ایک پل میں ہی برباد کرکے چلی گٸ 
اب اب کیا جواب دونگا میں اس کے سسرال والوں کو شادی میں کچھ دن ہی رہ گۓ ہیں علقمہ دونوں ہاتھوں میں منہ چپھاۓ رو پڑا۔
زرش کا دل غم سے پھٹنے کے قریب تھا وہ بے بسی سے علقمہ کو دیکھ کر رہ گٸ اور وہ کر بھی کیا کرسکتی تھی اس وقت علقمہ سے کچھ کہنا اپنے پیر پر کلہاڑی مارنے کے مترادف تھا۔
سب سے مشکل کام لڑکے والوں کو بتانا تھا اس ڈر سے انکے راتوں کی نیند اڑ گٸ تھی گھر میں سب ایک دوسرے سے ناراض نظر آرہے تھے کوٸ بھی کسی سے ضروری بات کے علاوہ بات نہیں کررہا تھا علقمہ اپنے اثر وسوخ کا استعمال کررہا تھا بنا کسی کو خبر کیے وہ لڑکا یونیورسٹی سے چھٹی پر تھا اور اسکے گھر کے پیچھے بھی تالا تھا۔
زرش کا سارا وقت جا نماز پر گزرنے لگا تھا جب سے فری گٸ تھی اسکا بی پی کنٹرول ہی نہیں ہوتا تھا بیٹی گٸ سو گٸ ساتھ میں انکا چین و سکون بھی لے گٸ مہمان شادی کے لیے کل سے آنے والے تھے انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کے کیسے سب کو منع کردے اور پھر اللہ نے انکی سن لی۔
 اس وقت وہ سب لاونج میں بیٹھے تھے ٹی وی لگا تھا لیکن سب اپنے اپنے خیالوں میں کھوۓ تھے کہ دفتعاً علقمہ کا موباٸل بجنے لگا علقمہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کال اٹھایے یا نہیں۔
آپ کا فون بج رہا ہے زرش نے اسکی توجہ موباٸل کی طرف دلاٸ۔
پتا ہے مجھے علقمہ نے بے رخی سے کہا جب سے فری گٸ تھی وہ زرش سے روٹا روٹا لگ رہا تھا جیسے فری کو بگھانے میں اسکا ہاتھ ہو۔
یہ لو تم بات کرو ان سے مجھ میں تو ہمت نہیں ہے انہیں بتانے کی علقمہ نے موباٸل اسکی طرف بڑھایا۔
ک ک کس سے زرش نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
اس منحوس کے سسرال والوں سے جس نے اپنی قسمت کو خود ٹکھر مار دی ہے علقمہ نے منحوس کا لفظ ایسے ادا کیا جیسے کڑوا بادام آگیا ہو اسکے منہ میں۔
میں لیکن میں کیسے بات کرسکتی ہوں۔
جیسے اس دن بیٹی کو اکیلے چھوڑا تھا اب ویسے ہی بات کرو اس سے علقمہ نے فون اسکی طرف اچھالا تو بادل نخواستہ اسنے فون اٹھالیا علقمہ نے اسکے پاس کوٸ راستہ ہی نہیں چھوڑا تھا۔
زرش نے ڈرتے ڈرتے فون کان سے لگا لیا سب کے کان اسی کی طرف لگے تھے۔
زرش نے ڈرتے ڈرتے سلام کیا ۔
اگلی طرف سلام کا جواب دینے کے بعد زرش سے فری کی ساس نے پتا نہیں ایسا کیا کہا جس سے زرش کی چہرے پر تھوڑی زندگی کی رمک دکھاٸ دینے لگی ورنہ فون اٹینڈ کرنے سے پہلے تو ایسا لگ رہا تھا جیسے اس میں خون کا ایک بوند بھی نہ ہو۔
سب منتظر نظروں سے زرش کو دیکھ رہے تھے چند ادھر ادھر کی باتوں کے بعد زرش نے فون بند کردیا اور ایک ٹھنڈی آہ لیکر صوفے پر گر سی گٸ۔
کیا کہا ان لوگوں نے علقمہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
ان کے گھر میں کسی کی فوتگی ہوگٸ انکے کسے قریبی رشتہ دار کی اس وجہ سے وہ لوگ چاہتے ہیں کہ شادی کی ڈیٹ کچھ دن آگے بڑھا لی جاۓ زرش نے دبے دبے جوش سے کہا۔
زرش کی بات سے ان سب نے جیسے سکھ کا سانس لیا۔

زرش چاۓ بنا کر لاٸ تو علقمہ کو کسی گہری سوچھ میں ڈوبا پایا۔
علقمہ چاۓ۔
زرش کی آواز پر علقمہ نے ٹھنڈی سانس لیکر چاۓ کا کپ تھاما۔
کیا سوچھ رہے تھے آپ زرش نے بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ پوچھا تو علقمہ نے اسکی طرف دیکھ کر گلا کھنکارا۔
زرش میں سوچھ رہا تھا کہ اللہ نے ہمیں کچھ دن مہلت دے دی ہے میں چاہتا ہوں کہ میں ان لوگوں کہ خلاف اغوا کا قیس داٸر کرلو۔
وہ تو ٹھیک ہے علقمہ لیکن فری کے آنکھوں پر تو اس وقت محبت کی پھٹی بندھی ہوٸ ہے اگر اسنے ہمارے خلاف گواہی دے دی۔
میرا نہیں خیال کے وہ ایسا کچھ کری گی کیونکے دو دن اس ڈربے نما گھر میں رہ کر اسکی آنکھوں سے محبت کی پھٹی اتر گٸ ہوگی۔
چلے جو آپ کو مناسب لگے زرش نے لمبی سانس لیکر کہا
*************************
آج فیصلے کا دن تھا آج فری نے کورٹ میں گواہی دینی تھی۔
صبح سے ہی زرش کا بی پی ہاٸ تھا جو کسی بھی طریقے سے کنٹرول نہیں ہورہا تھا علقمہ نے اسے اپنے ساتھ کورٹ جانے سے منع بھی کیا لیکن وہ نہیں مانی اسے لگ رہا تھا اگر وہ گٸ تو فری انکے حق میں گواہی دے گی العرض گھر کے سب افراد کورٹ گۓ۔
آخر بہت زیادہ انتظار کے بعد فری اپنے فیملی والوں کے ساتھ آتی ہوٸ دکھاٸ دی انکے نزدیک آکر فری ایک پل کے لیے رک گٸ فری کو دیکھ کر زرش کے آنکھوں میں آنسو آگۓ لیکن فری کے چہرے پر کوٸ ندامت نہیں تھی۔
آخر کار وہی ہوا جس کا ڈر زرش کو راتوں کو سونے نہیں دیتا تھا فری نے گواہی دے دی کہ وہ اپنے مرضی سے گٸ ہے کسی نے اسے مجبور نہیں کیا اور اسنے حکومت سے اپیل کی کہ اسے اور اسکے ہسبینڈ کو تحفظ دیا جاۓ اسے اپنے گھر والوں سے خطرہ ہے۔
فری کی سفاہانہ باتوں نے علقمہ اور زرش کے دل کو چیر دیا۔
وہ سب گاڑی میں بیٹھ رہے تھے کہ انکی نظر ٹیکسی کے انتظار میں کھڑے فری اور انکے شوہر پر پڑی علقمہ گاڑی میں بیٹھنے کے بجاۓ فری تک آیا زرش اسے روکنا چاہتی تھی لیکن وہ بہت تیزی سے انکے پاس آیا فری جو اپنی دھن میں تھی یوں اچانک باپ کو اپنے سامنے دیکھ کر گبھرا گٸ۔
با ۔۔۔۔۔۔۔۔با۔۔۔
بس۔۔۔۔۔ مرگیا تمہارا باپ آج تم نے ہم سب کو جیتے جی مار دیا آج کے دن تم نے ہم سب کو زندہ درگور کرلیا زندگی میں جب کبھی بھی تمہارا یہ شوہر علقمہ نے ساتھ کھڑے شاہد کے طرف اشارہ کیا۔
اگر یہ تمہیں گھر سے دھکے مار کر نکال بھی دے تو بھولے سے بھی میرے گھر مت آنا کیونکے اس گھر کے دروازے تم پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہے چاہے میں زندہ رہوں یا نہیں اگر مجھے پتا چلا کے تم میں سے کسی نے اس بدزات سے ملنے کی کوشش کی تو اس سے میرا رشتہ ختم آخری بات اسنے زرش کو دیکھ کر کی تھی اور پھر جیسے غصے میں آیا تھا ویسا ہی پلٹ گیا۔
فری کے آنکھوں سے آنسوٶں کا سیلاب امڈ آیا وہ اپنے پیاروں کو خود سے دور جاتا ہوا دیکھ رہی تھی۔
امی۔۔۔
مرگٸ تمہارا ماں زرش نے اسکا ہاتھ جھٹکا اور تیزی سے علقمہ کے پیچھے لپکی۔
علقمہ نے خود فری کے سسرال والوں کو فون کرکے فری کے بھاگنے کے متعلق بتایا ان لوگوں نے گھر آکر ان سب کی خوب بے عزتی کی وہ سب چھپ چھاپ سر جکھاۓ سنتے رہے۔
زرش کا ٹینشن پریشانی اور لوگوں کا ہمدردی کی آڑ میں تنز کی تیر چلانے سے زرش بہت زیادہ اپسیٹ رہنے لگی نا ٹھیک سے کھاتی تھی نا پیتی تھی 
جسکے نتیجے میں اسکو دل کا دورہ پڑ گیا تین دن آٸ سی یو میں رہنے کے بعد اسے روم میں شفٹ کیا گیا سب فری کی پریشانی کو بھول کر اسکی تیمارداری میں لگ گۓ زرش کو گھر لے جانے کے بعد علقمہ نے سب سے پہلا کام اپنا ٹرانسفر کرنے کا کیا تقریبا ایک مہینے کی جدوجہد کے بعد وہ لوگ لاہور سے اسلام آباد آگۓ دھیرے دھیرے وقت گزرنے لگا فری کا زکر اب گھر میں نہیں کیا جاتا سب معمول پر آگیا تھا لیکن زرش کو کسی طرح صبر نہیں آتا تھا وہ ہر وقت بیمار رہنے لگی تھی غم تو علقمہ کو بھی تھا لیکن وہ ظاہر نہیں کرتا تھا دل کی سکون کے لیے ان سب نے عمرہ کیا لیکن انکی آزماٸش ابھی ختم نہیں ہوٸ تھی۔

جاری ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے