ناول: آہ (قسط 4 آخری)

آہ
از_ناز_خان
قسط_نمبر_04
آخری_قسط

علقمہ شروع سے عاشق مزاج تھا اسکی کٸ لڑکیوں کے ساتھ دوستی تھی جس سے وہ سچے جھوٹے وعدے کرکے ٹاٸم پاس کرتا تھا اور بعد میں دوستوں کے درمیان انہیں ڈسکس کرکے خوب انجواۓ کرتا تھا اسے کسی کی عزت کی پرواہ نا تھی وہ کرتا بھی تو کیوں جب ان سب کو خود ہی اسکی پروا نا تھی
ایسے میں ایک لڑکی جسکا نام ماریہ تھا وہ علقمہ کے بارے میں بہت سیریس ہوگٸ تھی وہ تھی بھی شکل وصورت کی کافی اچھی علقمہ بھی اسکو باقی لڑکیوں سے ہٹ کر کچھ زیادہ امپورٹنس دیتا تھا ماریہ کا تعلق مذہبی گھرانے سے تھا انکے خاندان میں کسی غیر لڑکے سے بات کرنا گناہ کبیرہ سمجھا جاتا تھا ماریہ بھی پہلے اپنے گھر والوں کے سوچھ کی قدر کرتی تھی اور ان پر عمل بھی کرتی تھی لیکن جب سے اسکا سامنا علقمہ سے ہوا تھا وہ اپنے خاندان کو دقیانوسی سمجھنے لگی تھی اور اسے اپنے خاندان والوں کی سوچھ پر شرمندگی ہوتی تھی جو بھی تھا ماریہ کے دل میں گھر والوں کا ڈر تھا یا کچھ اور وہ جب بھی علقمہ کو اپنی تصویر سینڈ کرتی تو کبھی اکیلے خود کی تصویر سینڈ نہیں کی ہمیشہ اپنی کزنز یا دوستوں کے ساتھ لی گٸ پیکچر سینڈ کرتی ایسے میں ہی ایک دن ماریہ نے اپنے دوست کے بھاٸ کی شادی میں لی گٸ ایک پکچر علقمہ کو سینڈ کی اس پیکچر میں بھی ہمیشہ کی طرح اسکی دوست اسکے ساتھ تھی ماریہ کی اس دوست کو علقمہ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اسے دیکھ کر علقمہ کچھ دیر تو نظریں ہٹانا ہی بھول گیا
علقمہ کو لگا یہی ہے اسکا اگلا شکار ماریہ سے اب وہ بور ہوگیا تھا لیکن وہ ماریہ سے اسکا نمبر کیسے مانگے وہ یہی سوچھ رہا تھا کہ اسکے دماغ میں تیزی سے ایک خیال آیا موباٸل اٹھا کر وہ تیزی سے ماریہ کو میسج ٹاٸپ کرنے لگا کہ اسکے ایک دوست کو اسکی یہ سہیلی بہت پسند آگٸ ہے اور اسکے دوست کو اسکی سہیلی کا نمبر چاہیے ۔
ماریہ نے کچھ دیر کے بعد غصے والا میسج سینڈ کیا علقمہ میں تمہیں کتنے اعتبار سے پیکچرز سینڈ کرتی ہوں اور تم اپنے دوستوں کو دکھاتے ہو۔
علقمہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ یہ کیا کردیا میں نے اسنے جلدی سے بہانہ گھڑا کہ نہیں اسکا دوست تو پہلے سے اس لڑکی کو جانتا ہے اور کٸ سالوں سے اس لڑکی سے محبت کرتا ہے اور اس لڑکی کی کٸ تصویریں اسکے دوست کے پاس پہلے سے موجود ہے علقمہ نے مزید یہ جھوٹ بولا کہ اسکا دوست اس لڑکی سے سچی محبت کرتا ہے۔
ماریہ نے لاکھ اسے سمجھایا کہ عزا اس کے دوست کے ٹاٸپ کی نہیں ہے لیکن علقمہ بہ ضد رہا کہ وہ اسکا اتنا چھوٹا سا کام نہیں کرسکتی اتنی سے محبت تھی اس سے
علقمہ نے اسے ایموشنل بلیک میل کیا اور کچھ دن اس سے ناراض رہا اس سے بات نہیں کی۔
آخر کب تک ماریہ ٹالتی اسے علقمہ سے بہت زیادہ محبت تھی 
بھلا وہ عزا کی خاطر کیوں علقمہ کو ناراض کرتی اسنے علقمہ کو نمبر سینڈ کرنے کے ساتھ ساتھ عزا کی کٸ تصیویریں بھی سینڈ کردی تھی علقمہ کو بھلا اور چاہیے تھا کیا۔
وہ اس وقت دوستوں کے درمیان بیٹھا تھا جب اسنے عزا کے موباٸل پر محبت بھری پوٸٹری سینڈ کی اور اگلی طرف ریپلاٸ کا انتظار کرنے لگا لیکن بے سود اسنے ایک بار پر کچھ پوٸٹری اور میسجز سینڈ کردیے لیکن بہت زیادہ انتظار کرنے کے بعد بھی کوٸ ریپلاٸ نہیں ملا اس بار اسنے بنا وقت ضائع کیے کال ملاٸ اور دوستوں کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا لیکن اگلی طرف کال جانے کے کچھ دیر بعد کال کاٹ دی گٸ علقمہ نے حیرانگی سے موباٸل کان سے ہٹا کر موباٸل کو دیکھا اور دوبارہ کال ملاٸ لیکن اس بار پہلی ہی بیل پر کال کاٹ دی گٸ ایسا پہلی بار ہوا تھا اسکے ساتھ جو بنا بات کیے کال کاٹ دی گٸ دوستوں کے دبی دبی مسکراہٹ اسکا منہ چڑا رہی تھی
اسنے دوستوں کو سمجھایا کہ یہ مڈل کلاس لڑکیاں تھوڑا نخرا دکھاتی ہے بعد میں مان بھی جاتی ہے اسنے ان دوستوں کو چیلنج دیا کہ وہ کل تک عزا کو پٹھا لے گا اسکا خیال تھا کہ جب عزا کو اسکےسٹیٹس کے بارے میں پتا چلے گا تو خود ہی پکے ہوۓ پھل کی طرح اسکے جھولی میں آگری گی۔
دوستوں سے رخصت ہو کر وہ گھر آگیا
کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر اسنے سب سے پہلا کام عزا کو میسج کرنے کا کیا
لیکن اسنے کوٸ رسپونس نہیں دیا علقمہ کو اب غصہ آرہا تھا اسکے ایٹیوڈ پر اسکے نظر میں ساری لڑکیاں ایک جیسی تھی اسکا خیال تھا کہ عزا نخرے دکھا رہی ہے اسنے آخری حربہ استعمال کیا عزا کو اپنا نام بتایا اور اپنی کٸ اچھی اچھی تصویریں اسے سینڈ کی۔
کچھ دیر بعد عزا کے نمبر سے کال آنے لگی تو علقمہ کے چہرے پر مغرور مسکراہٹ آگٸ اسنے جلدی سے میسج ٹاٸپ کیا کہ میں کہی باہر ہوں تھوڑی دیر بعد کال کرو اب اتنا حق تو علقمہ کا بنتا تھا اتنا خوار جو کیا تھا عزا نے اسے۔ اسنے جلدی سے دوستوں کے ساتھ کانٹیکٹ کیا کہ رابطے میں رہو شکار جال میں پھس گیا ہے ایک مغرور مسکراہٹ اسکے چہرے پر آگٸ جب عین توقع کے مطابق عزا کی کال آنے لگی.
کچھ دیر کال بجنے کے بعد اسنے موباٸل کان سے لگایا۔
اور بہت سٹاٸل سے سلام کیا 
لیکن اگلی طرف خلاف توقع جو عزت افزاٸ اسکی ہوٸ اسنے اسکا تصور بھی نہیں کیا تھا سارے دوست اس پر ہنس رہے تھے اسنے سپیکر بھی آن رکھا تھا وہ ہکا بکا رہ گیا اسے عزا سے اس سب کی امید نہیں تھی علقمہ غصے سے پاگل ہورہا تھا اسکی اتنی عزت افزاٸ کسی نے نہیں کی تھی وہ سوچھ رہا تھا کہ عزا سے بدلہ کیسے لے اور پر اس کے دماغ نے اسے ایک آٸڈیا دیا اور اسنے بنا سوچھے بنا وقت ضاٸع کیے اس پر عمل کیا اور عزا کی ساری پیکچرز جو ماریہ نے اسے سینڈ کی تھی وہ سارے عزا کے بھاٸ کو بنا نام بتاۓ انجان نمبر سے جھوٹے ثبتوں کے ساتھ سینڈ کردیے نا صرف عزا کے بھاٸ کو بلکے عزا کے ہونے والے منگیتر اور اپنے کانٹیکٹ میں موجود سارے نمبرز پر سینڈ کردیے۔
عزا کا تعلق ایسے گھرانے سے تھا جو عزت کے خاطر جان لے بھی سکتے ہے اور جان دے بھی سکتے ہیں
اسنے عزا کا نمبر بھی سارے دوستوں میں بانٹ دیا اور اسکی تصویریں بھی اسے پرواہ نہیں تھی کہ اسکا یہ غصہ عزا کی زندگی پر کیا اثر ڈالے گا۔
وقت کے ساتھ ساتھ علقمہ یہ بات بھول گیا تھا وہ کچھ دن بعد ہی شہر آگیا تھا اور پر وہ اتنا مصروف ہوگیا تھا کہ اسے یاد ہی نہیں رہا تھا کہ اسکی زندگی میں کوٸ عزا نام کی لڑکی بھی آٸ تھی لیکن آج اتنے سالوں بعد تاشہ کی منہ سے یہ سب سن کر اسے لگا تاشہ کی جگہ عزا کھڑی ہے اور ماضی میں جو کچھ اسنے عزا کے ساتھ کیا تھا وہ سب بیٹی کی صورت میں اسکے ساتھ ہونے والا ہے۔
وہ بنا وقت ضاٸع کیے گاٶں پہنچنا چاہتا تھا تاکہ عزا سے معافی مانگ لے اور اپنی بیٹی کی عزت بچا لے اسے آج احساس ہورہا تھا کہ جو کچھ بووں گے وہی کاٹنا ہوگا۔
وہ بنا وقت ضاٸع کیے عامر جو کے کسی زمانے میں اسکا دوست تھا اسکے ٹکھانے پر پہنچا سالوں سے رابطے ختم تھے لیکن شاید اسکی خوش قسمتی تھی کہ عامر کا ٹکھانہ آج بھی وہی پر تھا عامر اسے دیکھ کر بہت خوش ہوا وہ کافی بوڑھا ہوگیا تھا عامر کو اس سے کافی گلے تھے کہ واپس پلٹ کر ہی نہیں پوچھا علقمہ کافی شرمندہ تھا اب وہ عامر کو کیا بتاتا کہ آج بھی وہ اپنے مطلب کے لیے آیا ہے۔
کھانا کھانے کے بعد علقمہ اپنی بات پر آگیا۔
یار عامر جب میں یہاں سے جارہا تھا تو تمہاری پڑوسن عزا کے قصے کافی مشہور تھے اسکا کیا بنا پر۔
ارے اس عزا کی بات کر رہے ہو جسنے تمہیں بھی اپنے تصویریں بیجھی تھی عامر کی بات پر وہ حجل سے ہوگیا ہاں یار اسی کی بات کررہا ہوں۔
کیا بتاٶں یار اسکے ساتھ تو بہت برا ہوا بیچاری بہت اچھی اور شریف لڑکی تھی ہمارے سامنے ہی تو بڑی ہوٸ تھی پتا نہیں کسی کو کیا دشمنی تھی اس سے کسی نے اسکے بھاٸ اور منگیتر کو اسکی تصویریں اور میسج بیجھے اسکے بھاٸ نے اسے بہت مارا اسکا منگیتر بہت اچھا انسان تھا وہ اس سب کے باوجود بھی اس سے شادی کرنے پر راضی تھا شادی کی ڈیٹ بھی فاٸنل ہوگیی تھی پر پتا نہیں اسکے منگیتر کو کسی نے راستے میں طعنہ دے دیا کہ کیسی لڑکی سے شادی کررہے ہو جس کا نمبر اور تصویریں گاٶں کے سارے لڑکوں کے پاس موجود ہیں وہ بھی کیا کرتا آج ایک آدمی نے طعنہ دیا کل دوسرے بھی دیتے بس پر کیا تھا وہ بنا کسی سے کچھ کہے ہمیشہ کے لیے گاٶں چھوڑ کر چلا گیا عزا کے نام ایک خط چھوڑ کر آج تک وہ مڑ کر واپس نہیں آیا۔
اور عزا جسکی پہلی ہی بہت بدنامی ہوگٸ تھی اسنے خودکشی کرلی جس دن اسنے سہاگنوں والا سرخ جوڑا پہن کر رخصت ہونا تھا اس دن وہ کفن پہن کر ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگٸ عزا کی زندگی کا باب تو ختم ہوگیا عزا کے مرنے کے کچھ دن بعد ہی اسکی ماں بھی عزا کا غم دل میں لیے ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سو گٸ ساری دنیا اسکے خلاف تھی لیکن اسکی ماں کو اس پر اعتبار تھا کہ ساری دنیا جھوٹ بول سکتی ہے لیکن میری عزا کبھی ایسا کام نہیں کرسکتی ایک ماں ہی ہوتی ہے جو فورا جان جاتی ہے بچے کے غلط اور صحیح قدم کو ایک ہنستے بستے گھر کو جانے کس کی نظر لگ گٸ جہاں ان بہن بھاٸیوں کے قہقے گونجتے تھے اب وہاں ویرانیاں اور سناٹے بولتے ہیں عامر اپنی بات ختم کرچکا تھا علقمہ کو لگا اسکے پاٶں میں جان باقی نہیں رہی اسکے غصے نے کٸ زندگیاں تباہ کردی تھی اور وہ سوچھتا تھا کہ اسنے تو کبھی کسی کا برا نہیں چاہا تھا تو اسکے ساتھ برا کیوں ہوا وہ عامر سے اجازت لیکر واپسی کے لیے مڑا عامر اسے آوازیں ہی دیتا رہ گیا وہ تو رات رکنے کے لیے آیا تھا لیکن اب تو رکنے کا جواز ہی باقی نہیں رہا تھا اسے جلد از جلد گھر پہنچنا تھا ابھی وہ بیچ راستے میں ہی تھا کہ زرش کی کال آنے لگی اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے فون ریسیو کیا اگلی طرف زرش نے روتے ہوۓ تاشہ کی خودکشی کرنے کی اطلاع دی علقمہ کے ہاتھ سے موباٸل گر گیا عزا کی خاموش آہ اسے لگ گٸ تھی۔

جو کچھ بوٶگے آخر میں کاٹنا بھی وہی پڑے گا چاہے وہ اچھا ہو یا برا۔

ختم شد۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے