وہ کوئ صحرا تھا غالبأ۔۔۔ جہاں ہر سو ریت ہی ریت تھی۔۔۔ آگ برساتے سورج کی تپش میں جھلستی ریت۔۔۔ کوئ ذی روح نظر نہ آتا تھا وہاں۔۔۔ گرم لو چل رہی تھی جس کے باعث ریت اڑ رہی تھی۔۔۔ کسی طوفان کے آثار تھے شاید۔۔۔
اور وہ وہاں تھی۔۔۔ اکیلی۔۔۔ تن تنہا۔۔۔ ننگے پیر۔۔۔ ادھر سے ادھر۔۔۔ کسی کی تلاش میں بھٹکتی۔۔۔پیاس کی شدت کے باعث گلے میں کانٹے سے ابھرنے لگے تھے۔۔۔ پیر جلنے لگے تھے۔۔۔ لیکن وہ مسلسل چل رہی تھی۔۔۔ بیقرار نظریں کسی کی تلاش میں سر گرداں تھیں۔۔۔
تبھی دور سے وہ نظر آیا تھا اسے۔۔۔ اپنی جانب بڑھتا ہوا۔۔۔ سفید کرتا شلوار میں۔۔۔وہ جو کسی سلطنت کا بادشاہ نظر آتا تھا۔۔۔ اسے دیکھ کر بے ساختہ چہرے پر مسکراہٹ بکھری۔۔۔ ساری جلن اور پیاس کا احساس ختم ہونے لگا۔۔۔ وہ چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی قدم قدم اپنی جانب آتے ہوۓ۔۔۔ لمحوں میں ہی منظر بدل چکا تھا۔۔۔ تپتے سورج کو گہرے سیاہ بادلوں نے ڈھانپ لیا تھا۔۔۔ ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی۔۔۔ سب جل تھل ہونے لگا تھا۔۔۔ لیکن وہ بے خود سی سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ گویا نگاہوں کی پیاس بجھا رہی ہو۔۔۔ اس شخص نے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔ یوں جیسے اسے چھو کر صندل کر دیا ہو۔۔۔ اس کی روح تک معطر ہو گئ۔۔۔ فضا میں نغمے سے گونجنے لگے۔۔۔ دھڑکنیں آنکھوں میں سمٹ آئ تھیں۔۔۔
لیکن پھر۔۔۔ نہ جانے کیا ہوا۔۔۔ وہ جو اس کے اتنے قریب کھڑا انتہائ مہربان لگ رہا تھا اس نے ایک دم اس کا ہاتھ جھٹکا۔۔۔ وہ حق دق اسے دیکھے گئ جو اب نفرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ بے تابی سے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا لیکن وہ اس سے دور جانے لگا۔۔۔ الٹے قدموں پیچھے ہٹتا وہ بہت فاصلے پر جا چکا تھا۔۔۔ وہ اسے آواز تک نہ دے سکی۔۔۔ بھیگی آنکھوں سے فقط نفی میں سر ہلا رہی تھی۔۔۔ اسے روکنا چاہتی تھی لیکن زبان ساتھ ہی نا دے رہی تھی۔۔۔ وہ پھر سے بے آسرا ہو گئ تھی۔۔۔ وہ مہربان شخص یوں نفرت سے اس کا ہاتھ جھٹک کر اسے چھوڑ کر جا چکا تھا۔۔۔ شدید بے بسی کے عالم میں وہ نیچے گر سی گئ اور وحشت کے عالم میں چینخ چینخ کر رونے لگی۔۔۔
نہ جانے کیسا احساس تھا کہ وہ گہری نیند سے ہڑبڑا کر اٹھی۔۔۔ چہرہ پسینہ پسینہ ہو رہا تھا۔۔۔ کیسا عجیب خواب تھا۔۔۔ اس شخص کو خواب میں بھی کھونے کا احساس سوہان روح تھا جو کبھی اس کا تھا ہی نہیں۔۔۔ جسے صرف ایک بار دیکھا تھا اس نے اور یہ بھی نہ جانتی تھی کہ دوبارہ کبھی اسے دیکھ بھی سکے گی یا نہیں۔۔۔ دل پہ بوجھ بہت بڑھ گیا تھا۔۔۔ وہ خود پر سے کنٹرول کھوتے ہوۓ رونے لگی۔۔۔ آنسو پلکوں کو بھگو رہے تھے۔۔۔ منہ پر ہاتھ رکھ کر سسکیوں کا گلا گھونٹتی وہ باہر آ گئ کہ کسی کی نیند خراب نہ ہو۔۔۔ وہیں ایک طرف بڑے سے پتھر پر بیٹھی گھٹنوں میں سر دیے وہ سسک رہی تھی۔۔۔کسی ایسے کندھے کی تلاش تھی جس پر سر رکھ کر وہ آنسو بہا سکے۔۔۔ لیکن اگر کسی کے سامنے وہ روتی تو وجہ پوچھنے پر کیا بتاتی کہ ایک ایسے شخص کے لیے رو رہی ہے جس سے چند لمحوں میں محبت ہوئ اسے۔۔۔ اور وہ بھی ان حالات میں کہ جب پندرہ دن بعد اس کی کسی اور سے شادی ہونے والی تھی۔۔۔ ان دنوں میں جب ہر لڑکی سہانے سپنے سجاتی ہے۔۔۔ جو اپنی آنے والی حسین ترین ذندگی کے خواب بنتی ہے۔۔۔ ان دنوں میں وہ ہر گزرتے پل کے ساتھ گھلتی جا رہی تھی۔۔۔وہ معصوم لڑکی اکیلی اپنی جان پر یہ ظلم سہتی اندر سے مر رہی تھی وہ۔۔۔ لیکن کوئ پرسان حال نہ تھا۔۔۔ کوئ ایسا نہ تھا جس سے وہ اپنا دکھ کہتی۔۔۔
"عشق نازل ہوا ہے ہم پر ایسے
جیسے قوموں پر عذاب آتا ہے"
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
وہ ایک شاندار سا آفس تھا۔۔۔ جہاں موجود ہر شے خود اپنے قیمتی ترین ہونے کی گواہی دے رہی تھی۔۔۔ اور ٹیبل کے پیچھے راکنگ چئیر پر بیٹھا وہ لیب ٹاپ پر مصروف تھا۔۔۔ بلیک پینٹ کے اوپر سفید شرٹ جس کے بازو فولڈ کیے ہوۓ تھے۔۔۔ کوٹ چئیر کی پشت پر لٹکا رکھا تھا۔۔۔ دایاں ہاتھ لیب ٹاپ کے ٹچ پیڈ پر چل رہا تھا جبکہ بائیں ہاتھ کی مٹھی سے بنا کر ٹھوڑی تلے ٹکا رکھی تھی۔۔۔ گہری سیاہ دلکش آنکھوں کی پتلیاں کبھی سکڑتیں۔۔۔ کبھی پھیلتیں۔۔۔ کبھی ان میں ستائش ابھرتی تو کبھی وہ مسکراہٹ میں ڈھل جاتیں۔۔۔
تبھی دروازے پر دستک دیتا کوئ اندر داخل ہوا۔۔۔ "ہیلو محترم فہد لغاری۔۔۔ کیا ہو رہا ہے۔۔۔ " وہ جو کوئ بھی تھا اس آفس کے مالک فہد لغاری سے بہت فرینک لگ رہا تھا۔۔۔ فہد نے آواز پر اس کی جانب دیکھا۔۔۔ "ارے انصر تم۔۔۔ آؤ بیٹھو۔۔۔" خوشدلی سے کہتے ہوۓ فہد نے اسے بیٹھنے کو کہا۔۔۔ لیب ٹاپ کی اسکرین فولڈ کر کے اسے ایک جانب کھسکا دیا۔۔۔ انصر اس کے سامنے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ چکا تھا۔۔۔ فہد نے انٹرکام پر گرین ٹی کا آرڈر دیا کہ جانتا تھا انصر گرین ٹی کے علاوہ کچھ نہیں پیے گا۔۔۔
انصر اس کا بہترین دوست تھا اور ساتھ ہی ساتھ دونوں بزنس پارٹنر بھی تھے۔۔۔
"اف یار۔۔۔ دھوم مچا دی اس لڑکی کی تصویر نے جو ہم نے اس بار میگزین کے سر ورق پر لگائ تھی۔۔۔ کہاں سے ڈھونڈا تم نے یہ گوہر نایاب۔۔۔ ہمیں بھی ملواؤ اس سے۔۔۔ " انصر متاثرکن لہجے میں اس سے مخاطب تھا۔۔۔ وہ واقعی ہی بے حد امپریس ہوا تھا زونی کی خوبصورتی، اس کے حسن، اس کی معصومیت سے۔۔۔ " ہاہاہا۔۔۔ ڈھونڈا نہیں ہے یار۔۔۔ بس اچانک ہی قدرت نے ملوا دیا اس سے۔۔۔ اور اس کی معصومیت نے مجھے اٹریکٹ کیا۔۔۔ پتا ہے کیا۔۔۔ یہ بناوٹی اور میک اپ زدہ چہرے دیکھ دیکھ کر اکتا گیا تھا میں۔۔۔ پھر مجھے قدرتی خوبصورتی سے روشناس کروایا گیا۔۔۔ وہ لڑکی۔۔۔ میک اپ کے نام پر لپ اسٹک تک نہ تھی اس کے ہونٹوں پر۔۔۔ آئ کانٹ بلیو۔۔۔ کوئ اتنا سادہ خوبصورت بھی ہو سکتا ہے۔۔۔ اور اس کی آنکھوں کا کلر۔۔۔ کیا کہنے ہیں۔۔۔ خدا نے بڑی فرصت سے ، بڑی محبت سے بنایا ہے اسے۔۔۔ " فہد ان لمحوں میں کھو سا گیا جب اس برف سے ڈھکے پہاڑ پر اس پریوں کی شہزادی سی لڑکی سے ملاقات ہوئ تھی اس کی۔۔۔
"آہم آہم۔۔۔ موصوف خاصے فدا لگتے ہیں ان پر۔۔۔جسٹ امیجن۔۔۔اگر میں یہ سب باتیں ریکارڈ کر کے بھابھی کو سنا دوں۔۔۔ تو کیا حال کریں گی وہ تمہارا۔۔۔ " انصر کا لہجہ شرارت سے بھرپور تھا۔۔۔ فہد نے اسے گھورا۔۔۔ "ایسی کوئ بات نہیں ہے۔۔۔ میں بس خدا کی تخلیق کی تعریف کر رہا تھا ۔۔ فدا تو بس تیری بھابھی پر ہوں۔۔۔ جان ہے وہ میری۔۔۔ اور خبر دار ایسی کوئ فضول بات اس سے کی تو۔۔۔ " انگلی اٹھا کر اسے وارن کیا گیا تھا۔۔۔ انصر ہنسنے لگا۔۔۔ تبھی دروازہ کھلا اور نزاکت سے چلتا ہوا ایک نسوانی وجود اندر داخل ہوا۔۔۔"ہاۓ ایوری بڈی۔۔۔" اس کے پیچھے ان کی سیکرٹری ٹرے میں کپ رکھے حاضر ہوئ۔۔۔۔
"ان کی عمر خاصی لمبی ہے شاید۔۔۔ ادھر نام لیا۔۔۔ ادھر مسز دیا فہد لغاری ٹپک پڑیں۔۔۔ " انصر منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔۔۔ فہد نےاسے ایک گھوری سے نوازا۔۔۔ "ہاۓ دیا۔۔۔ تم کب آئیں۔۔۔" محبت بھرے لہجے میں کہتے ہوۓ وہ دوسری جانب آیا اور چئیر پیچھے کرتے ہوۓ دیا کا ہاتھ پکڑ کر اسے بٹھایا۔۔۔ انصر بلاوجہ کھانسنے لگا۔۔۔ " ایسا زن مرید بھی نہ ہوکوئ۔۔۔ " مصنوعی خفگی سے کہتے ہوۓ اس نے اپنا کپ اٹھایا۔۔۔ دیا چہرہ جھکا کر مسکراہٹ چھپا گئ۔۔۔ "زن مریدی کے علاوہ محبت اور عزت نام کی بھی کوئ چیز ہوتی ہے۔۔۔ " فہد انصر کے سر پر ہلکی سی چپت رسید کرتے ہوۓ اپنی جگہ پر آ بیٹھا۔۔۔
"تو یار۔۔۔ ایسی محبت گھر میں جتایا کرو نا۔۔۔ یہ کیوں بھول جاتے ہو کہ یہ آفس ہے۔۔۔ اور یہاں محبت کے ایسے اعلی مظاہرے کر کے ہمارے جیسے کنوارے لوگوں کا دل جلانا گناہ کبیرہ کے زمرے میں آتا ہے۔۔۔" انصر ردہائ دینے والے انداز میں کہہ رہا تھا۔۔۔
"اوۓ نوٹنکی باز۔۔۔ بند کر اپنے یہ ڈرامے نہیں تو۔۔۔ " فہد نے پیپر ویٹ اٹھا کر اس کا نشانہ لیا۔۔۔" مسٹر فہد۔۔۔ مجھ سے پنگا لینے سے پہلے یہ سوچ لینا کہ چند لمحے پہلے جو باتیں کر رہے تھے میں تمہارے سارے پول کھول دوں گا بھابھی کے سامنے۔۔۔ " انصر نے دھمکی دی۔۔۔ "بکواس مت کر۔۔۔" فہد نے پیپر ویٹ واپس رکھا جبکہ دیا الجھی سوالیہ نگاہوں سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
"ایک منٹ ایک منٹ۔۔۔ یہ کونسے پول کھولنے کی بات ہو رہی ہے۔۔۔" دیا نے فہد کی جانب دیکھا۔۔۔"ارے کچھ نہیں یار۔۔۔ تم تو جانتی ہو۔۔۔ فضول بولنا عادت ہے اس کی۔۔۔ " فہد نے اپنے لیے منگوایا گیا کپ دیا کے سامنے رکھا۔۔۔ "بھابھی۔۔۔ میری بات مانیں۔۔۔ اپنے شوہر نامدار پر نظر رکھا کریں۔۔۔ آجکل بہت تعریفیں کر رہے ہیں۔۔۔ خوبصورت لڑکیوں کی۔۔۔ اپنے پلو سے باندھ کر رکھیں انہیں۔۔۔۔ کہیں کوئ پری انہیں لے ہی نہ اڑے۔۔۔ " انصر نے شرارتی نظریں فہد پر جمائیں۔۔۔ دیا مسکرا دی۔۔۔ "میں لے اڑی ہوں نا انہیں۔۔۔ جانتی ہوں۔۔۔ اب کہیں نہیں جائیں گے۔۔۔" دیا کے لہجے میں اطمینان تھا۔۔۔ انصر اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔۔۔ جبکہ دیا کے یہ الفاظ فہد کا سر فخر سے بلند کر گۓ تھے۔۔۔ تین سال ہو چکے تھے ان کی شادی کو۔۔۔مثالی محبت تھی دونوں میں۔۔۔
"اچھا میری بات سنو۔۔۔ کچھ کام سے آئ ہوں میں یہاں۔۔۔ " دیا نے انہیں اپنی جانب متوجہ کیا تو وہ دونوں بھی مذاق مستی چھوڑ کر سیریس ہوۓ۔۔۔ "اصل میں اس بار جو میگزین کے سرورق پر لڑکی کی تصویر دی ہے آپ لوگوں نے۔۔۔ زونی نام ہے شاید اس کا۔۔۔ تو سجاد بھائ اس کا ایڈریس پوچھ رہے تھے۔۔۔ مجھ سے کہا انہوں نے کہ آپ لوگوں سے ایڈریس لے کر دوں۔۔۔ وہ انہیں کافی پسند آئ ہے۔۔۔ اور اسے ماڈلنگ کی آفر کرنا چاہتے ہیں۔۔۔کافی عرصہ سے انہیں فریش چہرے کی تلاش تھی۔۔۔ اور اسے دیکھ کر انہیں لگا کہ ان کی تلاش ختم ہو گئ۔۔۔ آئ تھنک۔۔۔ ماڈلنگ کی دنیا میں وہ ایک بہترین اضافہ ثابت ہو گی۔۔۔ آپ دونوں کیا کہتے ہیں۔۔۔؟؟؟ " اپنی بات مکمل کرتے ہوۓ اس نے سوالیہ نگاہوں سے دونوں کی جانب دیکھا۔۔۔
"ہاں۔۔۔ میرا بھی یہی خیال ہے۔۔۔ وہ لڑکی کافی ہٹ ہو چکی ہے۔۔۔ بہت سے لوگوں کی کالز آ رہی ہیں ہمارے پاس بھی۔۔۔ ماڈلنگ اور فلم انڈسٹری میں بہت سے لوگ اسے لینا چاہ رہے ہیں۔۔۔ اور یہ خوش قسمتی ہے اس لڑکی کی۔۔۔ " انصر نے بھی دیا کی تائید کی۔۔۔ فہد جو دونوں ہاتھوں کی انگلیاں پھنساۓ اس کی بات سن رہا تھا۔۔۔ کچھ سوچتے ہوۓ اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔ "نہیں۔۔۔ میں ایگری نہیں ہوں اس بات سے۔۔۔ " اس کی بات پر انصر اور دیا چونکے۔۔۔ "کیوں۔۔۔ کیا برائ ہے اس میں۔۔۔ ؟؟" دیا حیران سی تھی۔۔۔ "دیا ٹھیک کہہ رہی ہے فہد۔۔۔ اسے قدرت کی جانب سے اتنا حسن ملا ہے تو اسے اس سے فائدہ اٹھانا چاہئیے۔۔۔ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ سکتی ہے وہ۔۔۔ " انصر بھی فہد کے ردعمل سے الجھ سا گیا۔۔۔
"نہیں یار۔۔۔ وہ لڑکی مجھے اس ٹائپ کی نہیں لگتی۔۔۔ بہت کم عمر اور معصوم ہے وہ۔۔۔ اور شاید دنیا کی چالاکیوں سے نابلد بھی۔۔۔ اس دن مجھے سامنے دیکھ کر وہ اسٹیچو بن گئ تھی بالکل۔۔۔ یوں جیسے اپنے حواس میں نہ ہو۔۔۔ مجھے۔۔۔ ایک اکیلے فرد کو دیکھ کر اس کا یہ حال تھا تو سوچو اس انڈسٹری میں وہ اتنے زیادہ لوگوں کو کیسے فیس کرے گی۔۔۔۔؟؟ یو نو۔۔۔ جس بارے میں تم لوگ بات کر رہے ہو اس انڈسٹری میں دھوکے اور دغا بازیاں بہت ہیں۔۔۔ وہ اس سب کا حصہ نہ ہی بنے تو بہتر ہے۔۔۔ " فہد کا لہجہ قطعیت سے بھرپور تھا۔۔۔
"لیکن فہد۔۔۔ تم ایک بار اس سے بات تو کرو۔۔۔ اس سے پوچھے بغیر یہ فیصلہ کیسے کر سکتے ہو۔۔۔ ہو سکتا ہے ہماری یہ آفر اس کی زندگی بدل کر رکھ دے۔۔۔ اور اس دنیا میں ہر شخص اپنی ذندگی بدلنا چاہتا ہے۔۔۔ تم خود سے ہی اس کے بارے میں یہ فیصلہ کیسے کر سکتے ہو۔۔۔ کوگ تو ترستے ہیں ایسی آفرز کے لیے۔۔۔ اسے تو بیٹھت بٹھاۓ سب مل رہا ہے۔۔۔ آئ ہوپ وہ کبھی یہ آفر ریجیکٹ نہیں کرے گی۔۔۔ " انصر پر یقین لہجے میں کہہ رہا تھا۔۔۔ "مگر تم لوگ میری۔۔۔ " فہد نے کچھ کہنا چاہا لیکن دیا نے اس کی بات کاٹ دی۔۔۔ "اگر مگر کچھ نہیں فہد۔۔۔ میں بھائ ہی بات ٹال نہیں سکتی۔۔۔ آپ اس سے بات تو کریں۔۔۔ بات کرنے میں تو کوئ حرج نہیں نا۔۔۔ اگر وہ راضی ہوئ تو ٹھیک۔۔۔ ورنہ اس کا انکار بھائ تک پہنچا دیں گے۔۔۔ " دیا کا انداز سمجھانے والا تھا۔۔۔ وہ چند پل کو خاموش سا ہو گیا ۔۔"او کے۔۔۔ دیکھتے ہیں۔۔۔ کرتا ہوں کچھ۔۔۔ " دھیمے لہجے میں کہتے ہوۓ اس نے بات ختم کی۔۔۔ کہ وہ دیا کو کسی بات سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ اس بات سے بے خبر تھا وہ کہ خود تو اپنی زندگی میں مطمئین اور خوش تھا لیکن دور بہت دور۔۔۔ وہ لڑکی پل پل مر رہی تھی۔۔۔ اس کی یاد میں۔۔۔ اس کی آس میں۔۔۔ اس کی محبت میں۔۔۔ دن رات آنسو بہاتی شاید اس کی ہی منتظر تھی۔۔۔
"اسے کہنا۔۔۔۔!!!!!!
جب وہ کسی اور
کے سنگ ہنستا ہے
تو پھر دور بہت دور
کسی کا دل دھڑکتا ہے
اور جب وہ اداس ہوتا ہے
پاس اسکے نہ کوئی
غم شناس ہوتا ہے
تو دور بہت دور
کسی کی آنکھوں سے
لہو برستا ہے۔۔۔!!"
(جاری ہے۔۔۔)

0 تبصرے
ہم سے رابطہ کرنے کا شکریہ
ہم آپ سے بہت جلدی رابطہ کریں گے۔