وہ اک لمحۂ محبت از آیت نور (قسط 1)

وہ_اک_لمحۂ_محبت
از_آیت_نور
قسط_نمبر_01

اک لڑکی ہے معصوم پری۔۔۔۔
پھولوں سے محبت کرتی ہے۔۔۔
جگنو مٹھی میں بھرتی ہے۔۔۔
یہ تارے اس کے ساتھی ہیں۔۔۔
اور چاند بھی اس پہ مرتا ہے۔۔۔
قصیدے اس کے حسن کے۔۔۔
آسماں بھی ہر پل کرتا ہے۔۔۔
بس کھوئ کھوئ رہتی ہے۔۔۔
وہ جاگی سوئ رہتی ہے۔۔۔
شب بھر وہ جاگتی رہتی ہے۔۔۔
ان تاروں کو وہ گنتی ہے۔۔۔
دنیا سے ہے انجان بہت۔۔۔
وہ خود میں ہے گمنام بہت۔۔۔
نہیں جانتی دنیا کی کارگری۔۔۔
وہ لڑکی ہے معصوم پری۔۔۔

رات کے گیارہ بج رہے تھے۔۔۔ اس بستی کا ہر چھوٹا بڑا فرد محو استراحت تھا۔۔۔ چار سو خاموشی چھائ تھی۔۔۔ ایسے میں وہ اپنے گھر سے کچھ دور اپنی من پسند جگہ پر موجود تھی۔۔۔ جہاں ہریالی تھی۔۔۔ پھول تھے۔۔۔ دنیا کی رنگینیاں تھیں۔۔۔ جگنو تھے۔۔۔ چاند اور تارے تھے۔۔۔ اس کے ساتھی۔۔۔ اس کے دوست۔۔۔ اور مسحور سی وہ سترہ سالہ لڑکی۔۔۔ جو اس سر سبز زمین پر مدہوشی کے سے عالم میں گول گول گھوم رہی تھی۔۔۔ جگنو اس کے اردگرد یوں منڈلا رہے تھے گویا اس کا طواف کر رہے ہوں۔۔۔ اس کے کھلے، لمبے، خوبصورت بالوں سے چھیڑ خانی کرتے جگنو۔۔۔ لبوں میں مسکراہٹ دباۓ اس نے ہتھیلی سامنے پھیلائ تو دو جگنو اس کی ہتھیلی پر آ بیٹھے۔۔۔ اور انہیں دیکھ کر اس کی سبز آنکھوں کی چمک مزید گہری ہوئ۔۔۔دور چاند نے ہلکی سی مسکراہٹ لیے اس معصوم حسن کے پیکر کو دیکھا جو چاندنی میں مزید سحر انگیز لگ رہی تھی۔۔۔ دودھیا رنگت چمک رہی تھی۔۔۔ کانچ سی آنکھوں میں ڈھیروں چھوٹے چھوٹے سپنے سجے تھے۔۔۔ یہ چاند تارے۔۔۔ یہ پھول اور جگنو تو واقف تھے اس کے جذبات سے۔۔۔ اس کے خوابوں سے۔۔۔ 
"زونی۔۔۔ اے زونی۔۔۔ " ان خوبصورت لمحوں کے طلسم کو ایک زور دار کرخت آواز نے توڑا۔۔۔ وہ چونکی اور آواز کی سمت دیکھنے لگی۔۔۔ "جی اماں۔۔۔" ہلکی سی آواز میں کہہ کر ایک نظر چمکتے جگنوؤں کو دیکھا جو شاید یہ سخت آواز سن کر وہاں سے جا رہے تھے۔۔۔ زونی کی آنکھوں کی جوت بجھنے لگی۔۔۔ "ارے کمبخت کہاں مر گئ ہے۔۔۔" اماں کی پھٹکار پھر سے سنائ دی۔۔۔ تو وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی اماں کی جانب بڑھنے لگی۔۔۔ کچھ ہی فاصلے پر اماں کمر پر ہاتھ رکھے کھڑی تھیں۔۔۔ خشمگیں نگاہوں سے اسے گھورتیں۔۔۔ زونی نظریں جھکاۓ انگلیاں مروڑتی ان کے قریب آئ۔۔۔ "تجھے کتنی بار کہا ہے کہ یوں گھر سے مت نکلا کر۔۔۔ جب جی چاہتا ہے آدھی رات کو منہ اٹھا کر نکل جاتی ہے۔۔۔ تجھے ایک بار کہی بات سمجھ کیوں نہیں آتی۔۔۔ اوپر سے خوبصورت اتنی ہے کمبخت۔۔۔۔ کہیں کوئ سایہ آ گیا تو کیا بنے گا تیرا۔۔۔ پر نہیں۔۔۔ ماں کی تو سننی ہی نہیں تو نے۔۔۔ میں تو بکواس کرتی ہوں نا۔۔۔ تیرے باپ کو پتا چلا نا۔۔۔ تو تو پٹے گی ہی۔۔۔ ساتھ میری بھی خاطر ہو گی۔۔۔ سدھر جا میں کہتی ہوں۔۔۔۔ سدھر جا۔۔۔" اماں اپنی عادت سے مجبور ایک بار پھر اس پر چینخ رہی تھیں۔۔۔ اور وہ کان لپیٹے، سر جھکاۓ خاموشی سے ان کے آگے آگے چل رہی تھی۔۔۔ جب بھی اماں یوں جھڑکتیں۔۔۔ اسے ڈانتیں۔۔۔ تو وہ خاموشی سے سب سنتی۔۔۔ کبھی ایک لفظ نہ کہا ان سے۔۔۔ ہر بار خود سے وعدہ کرتی کہ ماں کی بات مانے گی۔۔۔ لیکن پھر نہ جانے کیا کشش محسوس ہوتی ان پھولوں سے۔۔۔ اس ہریالی سے۔۔۔ اس سبزے سے کہ وہ کھنچی چلی آتی۔۔۔ اور اس جگہ آ کر وہ دنیا جہان کو بھول جاتی۔۔۔ ماں کی ڈانٹ پھٹکار۔۔۔ باپ کا ڈر۔۔۔ سب ذہن سے محو ہو جاتا۔۔۔ کچھ یاد رہتا تو فقط یہ کہ وہ اپنے دوستوں کے درمیان ہے۔۔۔ جو اس کی سنتے ہیں۔۔۔ اس سے رازو نیاز کرتے ہیں۔۔۔ جن کے درمیاں رہ کر اسے خوشی محسوس ہوتی ہے۔۔۔ وہاں آ کر اسے وقت کی تفریق بھول جاتی۔۔۔ نہ جانے کتنے کتنے گھنٹے وہ اس جگہ بیٹھی رہتی۔۔۔ بے خود سی۔۔۔ 
وہ جا کر خاموشی سے اپنی چارپائ پر لیٹ گئ۔۔۔ آنکھیں موند لیں۔۔۔ پلکوں کی باڑ کے پیچھے سپنوں کا ایک جہان آباد تھا۔۔۔

"مجھے وحشت ہے رونق سے 
مجھے سنسان رہنے دو"
⭐⭐⭐⭐⭐⭐

"زونی۔۔۔ زونی کہاں ہو تم۔۔۔" عاشی آوازیں دیتی ہوئ لکڑی کے بنے اس مکان میں داخل ہوئ جہاں زونی کی تیرہ سالہ چھوٹی بہن علینہ سفید رنگ کے کاغذات پر رنگوں کی مدد سے کچھ بنانے میں مگن تھی۔۔۔ اس علاقے میں بچوں کو پڑھانے کی طرف توجہ نہیں دی جاتی تھی۔۔۔ وہاں کوئ اسکول نہ تھا۔۔۔ نہ ہی تعلیم کو ضروری خیال کیا جاتا۔۔۔ سب سیدھے سادھے لوگ تھے۔۔۔ محدود سی زندگی میں مگن۔۔۔ جن کا مقصد محنت کرنا۔۔۔ کھانے کے لیے کمانا۔۔۔ تین وقت کھانا اور سکون اور چین کی نیند سونا تھا۔۔۔ بہت زیادہ دولت اور پیسہ جمع کرنے کی حرص نہیں تھی ان میں۔۔۔ اپنی اولاد کو بچپن سے ہی ایسی تربیت دی جاتی کہ بڑے ہو کر وہ اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پال سکیں۔۔۔ بچپن میں ہی بچوں کے رشتے طے کر دئیے جاتے اور پھر ان کے بالغ ہوتے ہی شادی کر دی جاتی۔۔۔ شادی کے لیے لڑکی کی مناسب عمر سولہ سال اور لڑکے کی اٹھارہ سے بیس سال سمجھی جاتی۔۔۔ 
علینہ نے نظر اٹھا کر عاشی کی جانب دیکھا جس کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔۔۔ "علینہ۔۔۔ زونی کہاں ہے۔۔۔" کھنکتی آواز میں ہوچھا۔۔۔ "بجو کا تو آپ کو پتا ہے۔۔۔ جب بھی گھر موجود نہ ہوں تو سمجھ کیں اپنی من پسند جگہ پر ہی ہوں گی۔۔۔ گھر سے زیادہ انہیں اس جگہ رہنا پسند ہے۔۔۔ پتا نہیں کیا کرتی رہتی ہیں وہاں سارا دن۔۔۔ " علینہ کے لہجہ بیزاریت لیے ہوۓ تھا۔۔۔ وہ چاہتی تھی کہ زونی اس کے ساتھ رہے۔۔۔ وہ دونوں ہنسیں کھیلیں۔۔۔ جی بھر کر ایک دوسرے سے باتیں کریں۔۔۔ لیکن زونی الگ مزاج کی تھی۔۔۔ تنہائ پسند۔۔۔ جسے لوگوں سے زیادہ پھولوں، تتلیوں سے پیار تھا۔۔۔ اس لیے ان دونوں کی کبھی نہیں بنتی تھی۔۔۔ علینہ اپنے کاموں میں مگن رہتی اور زونی اپنے کاموں میں۔۔۔
"اچھا۔۔۔ چلو میں وہیں چلی جاتی ہوں۔۔۔" عاشی کہتے ہوۓ مڑ گئ۔۔۔ اب وہ اونچائ کی طرف جا رہی تھی کہ وہ جگہ اونچائ پر واقعہ تھی جہاں زونی پائ جاتی تھی۔۔۔
"اے زونی۔۔۔" دور سے ہی اسے دیکھ کر عاشی نے پکارا۔۔۔ ساتھ ہی ہاتھ بھی ہلایا۔۔۔ اس کے قدموں میں بھی تیزی آ گئ تھی۔۔۔ زونی مگن سی اپنے ہی خیالوں میں گم بیٹھی تھی۔۔۔ ایک ہاتھ میں سرخ گلابوں کو گلدستے کی صورت میں تھاما ہوا تھا۔۔۔ جبکہ دوسرے ہاتھ کی پشت اپنے چہرے کے سامنے کر رکھی تھی جس پر بہت خوبصورت، رنگ برنگی تتلی بیٹھی تھی۔۔۔ یہ تتلیاں، یہ جگنو بھی شاید اس سے مانوس ہو چکے تھے۔۔۔ کہ وہ بچپن سے ہی اس جگہ آتی جاتی رہتی تھی۔۔۔
عاشی کی آواز پر وہ چونکی۔۔۔آواز کے تعاقب میں دیکھا تو لبوں پر مسکراہٹ بکھری۔۔۔ عاشی۔۔۔ اس کی بچپن کی سہیلی تھی۔۔۔ اکلوتی بہترین دوست۔۔۔ اور ان پھولوں اور تتلیوں کے بعد عاشی ہی تھی جس کے ساتھ وقت گزارنا اسے پسند تھا۔۔۔جس کے ساتھ سے اسے خوشی ملتی تھی۔۔۔کیونکہ اس انسانوں کی بستی میں صرف ایک وہی تو تھی جو اس کے دل کی بات سمجھتی تھی۔۔۔ ورنہ دوسرے تو اس کی باتیں سن کر اسے پاگل ہی سمجھتے۔۔۔ اور اس طرح کا ردعمل دیتے کہ زونی کو لگتا وہ کسی اور ہی دنیا کی باسی ہے۔۔۔ جیسے غلطی سے اسے یہاں، اس دنیا میں بھیج دیا گیا۔۔۔
"کیا کر رہی ہو یہاں بیٹھی۔۔۔ وہی پھولوں سے گپ شپ۔۔۔" عاشی گہرے گہرے سانس لیتی دھپ سے اس کے ساتھ آن بیٹھی۔۔۔ تتلی نے اڑان بھری اور ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئ۔۔۔ "ہاں۔۔۔ تم جانتی ہو۔۔۔ یہی ایک مشغلہ ہے میرا بس۔۔۔" زونی نے ایک گلاب کی پتیوں پر انگلی پھیرتے ہوۓ اس کی نرماہٹ محسوس کرنی چاہی۔۔۔ "شونی۔۔۔ کیا ملتا ہے تمہیں یہاں آ کر۔۔۔ کیسے اتنا وقت گزار لیتی ہو تنہا بیٹھ کر۔۔۔ " عاشی نے اس کے سرخیاں چھلکاتے چہرے کی طرف دیکھا۔۔۔ "تنہا کہاں ہوتی ہوں۔۔۔ یہ پھول ہوتے ہیں نا۔۔۔ میرے ساتھ۔۔۔ میرے پاس۔۔۔ " دھیمے سے لہجے میں کہہ کر اس نے نظریں اپنے ہاتھ میں موجود گلابوں پر جما دیں۔۔۔ "ہوں۔۔۔ تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔" عاشی نے افسوس بھرے لہجے میں کہا۔۔۔ پھر اس کے ہاتھ سے ایک گلاب اچکا اور اس کے کھلے بولوں میں کان کے قریب لگا دیا۔۔۔ "عاشی۔۔۔ میں نے سنا تھا کہ یہاں اس جگہ پر پریاں اترتی ہیں۔۔۔ جب چاند مکمل ہوتا ہے تب۔۔۔ چودھویں کی رات وہ یہاں اترتی ہیں۔۔۔ سفید لباس میں۔۔۔ اور پھر رقص بھی کرتی ہیں۔۔۔ پتا ہے۔۔۔ کل رات میں اماں ابا سے چھپ کر یہاں آئ۔۔۔ پریاں دیکھنے۔۔۔ ساری رات انتظار کیا۔۔۔ لیکن وہ نہیں آئیں۔۔۔ نہ جانے کیوں۔۔۔ " زونی کے لہجے میں معصومیت تھی اور افسوس بھی۔۔۔ جیسے اسے دکھ ہوا پریوں کے نہ آنے کا۔۔۔ عاشی نے اس کا اترا ہوا چہرہ دیکھا اور پھر ہنسنے لگی۔۔۔ زونی نے خفا سی نظر اس پر ڈالی اور چہرہ موڑ کر سامنے دیکھنے لگی۔۔۔ ہوا کے باعث چہرے پر بکھری بالوں کی لٹوں کو نرمی سے پیچھے کیا تو گلاب کا پھول پھسل کر نیچے آ گرا۔۔۔
"پاگل ہو تم۔۔۔ بالکل پاگل۔۔۔ تمہاری یہ معصومیت کسی دن لے ڈوبے گی تمہیں۔۔۔ وہ پریاں صرف کہانیوں میں ہوتی ہیں زونی۔۔۔ اصل میں ان پریوں کا کوئ وجود نہیں ہے۔۔۔ اور پھر۔۔۔ تمہیں بھلا کیا ضرورت ہے پریوں کو تلاش کرنے کی۔۔۔ ان کا انتظار کرنے کی۔۔۔ خود کو جا کر آئینے میں دیکھو۔۔۔ پریوں سے کہیں زیادہ حسن سے نوازا ہے تمہیں اللہ نے۔۔۔ " عاشی نے ہلکے سے اس کے سر پر چپت لگائ۔۔۔ زونی نے سر جھٹکا۔۔۔ وہ یہ ماننے سے انکاری تھی کہ پرہوں کا کوئ وجود نہیں ہوتا۔۔۔ اسے یقین تھا کہ حقیقت میں بھی پریاں اترتی ہیں۔۔۔ لیکن وہ بحث نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اور جب بحث سے بچنا ہو تو بس خاموشی اختیار کر لیتی۔۔۔ 
"اچھا سنو۔۔۔ ایک بہت مزے کی خبر ہے میرے پاس۔۔۔" اس کی جانب سے کوئ جواب نہ پا کر عاشی نے تجسس پھیلانے کی کوشش کی۔۔۔ زونی نے سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔۔۔ اس کی سبز کانچ سی آنکھوں میں سرخ ڈورے سے تیر رہے تھے۔۔۔ "اف اللہ۔۔۔ تمہاری آنکھوں کو کیا ہوا۔۔۔ تم روتی رہی ہو کیا۔۔۔؟؟؟" عاشی تو دھک سے رہ گئ اس کی آنکھوں کی سرخی دیکھ کر۔۔۔ زونی نے نظروں کا زاویہ بدلا۔۔۔ "نہیں۔۔۔ بتایا نا۔۔۔ کل ساری رات پریوں کا انتظار کرتی رہی۔۔۔ سوئ نہیں۔۔۔ اس لیے شاید۔۔۔ " لب کاٹتے ہوۓ بتایا گیا۔۔۔ حقیقت تو یہ تھی کہ وہ ابھی تک اس دکھ سے نہیں نکلی تھی کہ ساری رات انتظار کرنے کے بعد بھی وہ پریوں کو نہیں دیکھ سکی۔۔۔ "اف۔۔۔ ایک تو یہ لڑکی۔۔۔" عاشی نے دانت پیسے۔۔۔ پھر خاموش ہو گئ۔۔۔ جانتی تھی۔۔۔ اسے جتنا مرضی سمجھا لو وہ کرتی اپنی ہی مرضی تھی۔۔۔ 
"اچھا سنو۔۔۔ کل حمزہ کی اماں آئ تھیں ہمارے گھر۔۔۔ کہہ رہی تھیں کہ اگلے ہفتے وہ لوگ تمہاری طرف آ رہے ہیں۔۔۔ شادی کی تاریخ طے کرنے۔۔۔ " عاشی نے اپنی طرف سے دھماکا ہی کیا تھا۔۔۔ اس کا خیال تھا کہ زونی اس کی بات سن کر اچھل پڑے گی۔۔۔ خوشی سے اس کے گلے لگ جاۓ گی۔۔۔ لیکن دوسری جانب کوئ ردعمل نہ پا کر وہ حیران رہ گئ۔۔۔ زونی یوں خاموش بیٹھی تھی جیسے اس کی نہیں کسی اور کی شادی کی بات کی جا رہی ہو۔۔۔ بالکل خاموش۔۔۔ لب سئیے۔۔۔"اے زونی۔۔۔ میں تجھ سے بات کر رہی ہوں۔۔۔ " عاشی نے اس کا کندھا ہلایا۔۔۔ "ہاں سن لیا میں نے۔۔۔" زونی نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا۔۔۔ "تجھے خوشی نہیں ہوئ سن کر۔۔۔" صدمے سے عاشی تو بول ہی نہ پا رہی تھی۔۔۔ زونی نے گہری سانس بھری گلاب ایک جانب رکھ کر دونوں ہاتھ گھٹنوں کے گرد لپیٹے اور ان پر سر رکھ دیا۔۔۔ "خوشی کس بات کی۔۔۔ اپنی آزادی چھن جانے کی۔۔۔ کسی کو اس کے قید ہونے کی خبر سنائ جاۓ تو اسے خوشی ہو سکتی ہے کیا۔۔۔ ؟؟" اس کی آواز اتنی ہلکی تھی کہ عاشی بمشکل سن سکی۔۔۔ "قید۔۔۔ کیا مطلب ہے تیرا۔۔۔؟؟" عاشی الجھن زدہ سی پوچھنے لگی۔۔۔ "قید ہی تو ہو گی یہ شادی۔۔۔ بے شک بستی میں ہی شادی ہو رہی ہے میری۔۔۔ لیکن ان کا گھر ہمارے گھر سے بہت دور ہے۔۔۔ اور شادی کے بعد مجھے یہاں آنے کی اجازت نہیں ہو گی۔۔۔ یہ پھول، یہ تتلیاں جو میرے وجود کے عادی ہو چکے ہیں یہ تنہا ہو جائیں گے۔۔۔ میں تنہا ہو جاؤں گی۔۔۔ تب کس سے کیا کروں گی اپنے دل کی باتیں۔۔۔ تم تو جانتی ہو نا۔۔۔ شادی کے بعد عورت کو گھر سے نکلنے ہی نہیں دیا جاتا۔۔۔ شادی کے بعد عورت کا کام بس بچے پیدا کرنا اور گھر والوں کی چاکری کرنا ہے۔۔۔ میں ایسی زندگی نہیں گزار سکتی عاشی۔۔۔ مجھے ان پھولوں سے محبت ہے۔۔۔۔ اور مجھے میری محبت سے جدا کیا گیا تو مر جاؤں گی میں۔۔۔" وہ سسک اٹھی تھی۔۔۔ عاشی دکھ اور بے بسی سے اسے دیکھے گئ۔۔۔ نہ جانے اس کے خیالات ساری دنیا سے جدا کیوں تھے۔۔۔ اس کے خواب اتنے الگ کیوں تھے سب سے۔۔۔ کبھی کبھی تو عاشی کو بھی لگتا کہ وہ اس دنیا کی مکین ہی نہیں ہے۔۔۔ کسی اور دنیا سے اسے یہاں بھیجا گیا ہے تبھی تو اس کے خیالات اس دنیا کے باسیوں سے میل نہیں کھاتے تھے۔۔۔

⭐⭐⭐⭐⭐

اس روز اماں ابا اور چھوٹی گھر نہیں تھے۔۔۔ سب شادی کی تیاریوں کے سلسلے میں حمزہ کے گھر گۓ تھے۔۔۔. حمزہ اسی بستی کا ایک نوجوان تھا۔۔۔ بچپن میں ہے زونی کی نسبت طے کر دی گئ تھی اس سے۔۔۔ ایک ہی بستی کے ہونے کے باوجود کبھی زونی نے اسے دیکھا تک نہ تھا۔۔۔ دیکھنے کی چاہ ہی نہ تھی۔۔۔ نہ جانے کیوں اسے اس سب میں کوئ دلچسپی ہی نہ ہوتی۔۔۔ اب بھی شادی کی تاریخ طے ہو چکی تھی۔۔۔ لیکن وہ اس سب سے بے نیاز اپنی ہی دنیا میں مگن رہتی۔۔۔ وہ چارپائ پر لیٹی علینہ کی بنائ گئ تصاویر دیکھ رہی تھی۔۔۔ اکتا کر باہر نکلی تو باہر کا موسم دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑی۔۔۔ باہر ہلکی ہلکی برف باری ہو رہی تھی۔۔۔ اور ایسا موسم ہمیشہ اسے دیوانہ کر دیتا۔۔۔ وہ بے خودی کے عالم میں کھڑی تھی۔۔۔ نظر اونچائ کی طرف پہاڑوں پر جم گئ۔۔۔ جو برف کے گرتے گالوں کے باعث سفیدی اختیار کرتے جا رہے تھے۔۔۔ بے اختیار زونی کے قدم اس طرف بڑھنے لگے۔۔۔ ہر چیز سے بے نیاز وہ پہاڑ پر چڑھتی جا رہی تھی۔۔۔ اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ساتھ اس کی دیوانگی میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا۔۔۔ سردی کے باعث چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔۔ ہاتھ ٹھٹھر رہے تھے مگر وہاں پرواہ کسے تھی۔۔۔ اس پر تو بس اوپر۔۔۔ بہت اوپر جانے
کی دھن سوار تھی۔۔۔ تقریبأ آدھے گھنٹے کے تھکا دینے والے ڈھلوانی سفر کے بعد ہانپتی ہوئ وہ اس پہاڑ کی قدرے ہموار سطح پر چڑھنے میں کامیاب ہوئ۔۔۔ لیکن پہاڑ پر پہنچ کر۔۔۔ وہاں کا منظر دیکھ کر ساری تکان کہیں دور جا سوئ تھی۔۔۔ وہ مسحور سی اردگرد دیکھ رہی تھی۔۔۔قدرت کی خوبصورتی کو۔۔۔ پہلے کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا تھا کہ انہیں اجازت نہ تھی یوں پہاڑوں پر چڑھنے کی۔۔۔ لیکن آج گھر والوں کی اجازت کے بغیر یہاں آ گئ تھی تو خود کو ہی بھول بیٹھی تھی۔۔۔ ان لمحوں میں کھو سی گئ تھی وہ۔۔۔
سفید رنگ کے پھولے پھولے فراک میں شہد رنگ بالوں کو پشت پر بکھراۓ۔۔۔ سبز آنکھوں سے اردگرد کو دیکھتی وہ خود بھی اسی منظر کا حصہ معلوم ہو رہی تھی۔۔۔ کوئ اسے یہاں دیکھتا تو آسمان سے اتری ہوئ پری ہی سمجھتا۔۔۔ برف کے گالے اس کے بالوں میں پھنس گۓ تھے۔۔۔ دودھیا رنگت میں سردی کے باعث سرخیاں سی گھل گئیں۔۔۔ موسم کی خوبصورتی کو محسوس کرتی وہ آنکھیں بند کر گئ۔۔۔ دونوں بازوؤں کو پھیلاۓ، ہتھیلیوں کو کھولے وہ گھومنے لگی۔۔۔ برف پر اس کے پیروں کے نقش و نگار بننے لگے۔۔۔ 
تبھی وہ وہاں آیا تھا۔۔۔ سیاحت کا شوقین۔۔۔ فہد لغاری۔۔۔ گلے میں کیمرہ لٹکاۓ موسم کو انجواۓ کرتا وہ یہاں تک آن پہنچا تھا۔۔۔ اس بات سے بے خبر کہ جو نظارہ اسے دیکھنے کو ملے گا وہ اس موسم سے کہیں زیادہ خوبصورت ہو گا۔۔۔ 
اس حسن کی دیوی کو دیکھ کر وہ ٹھٹھک سا گیا۔۔۔ نہ جانے کیا کشش تھی اس میں کہ وہ ایک قدم آگے نہ بڑھ سکا۔۔۔ وہ ایک فیشن میگزین کا اونر تھا۔۔۔ ماڈلنگ کی دنیا سے بھی واسطہ تھا اس کا۔۔۔ حسین سے حسین ترین چہرے دیکھے تھے اس نے۔۔۔ لیکن ایسا حسن۔۔۔ وہ ماننے پر مجبور ہو گیا کہ ایسا دیو مالائ حسن آج تک نہ دیکھا تھا اس نے۔۔۔ وہ لڑکی ہیرا تھی گویا۔۔۔ جس کی چمک دور سے ہی نگاہوں کو خیرا کرتی تھی۔۔۔اور اس کی خوبصورتی سے زیادہ اس کے چہرے پر بکھری معصومیت تھی جس نے فہد کو اس کی جانب مائل کیا۔۔۔ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر فہد نے کیمرہ کا رخ اس کی جانب کیا اور اس کی تصویریں بنا لیں۔۔۔ 
نامونوس سے احساس پر زونی نے آنکھیں کھولیں تو اپنے سامنے ایک اجنبی کو دیکھ کر چونکی۔۔۔ اور ایک دم رک گئ۔۔۔ اس کے رکنے پر فہد نے گہری نگاہ اس کے چہرے پر ڈالی اور بے ساختہ اس جے منہ سے الفاظ نکلے۔۔۔

"ہونٹ اس کے دیکهے _____تو یوں لگا مجهے...!

جیسے دودھ میں رکهی ہوں_____دو پتیاں گلاب کی...!"

زونی نگاہیں جھکاۓ پزل سی کھڑی تھی۔۔۔ فہد لب دانتوں تلے دباۓ برف پر چلتا اس کے قریب آیا۔۔۔ "ہاۓ وائٹ بیوٹی۔۔۔" اشارہ اس کے سفید کپڑوں کی طرف تھا۔۔۔ یوں لگ رہا تھا جیسے یہ رنگ تو بنا ہی صرف اس لڑکی کے لیے ہے۔۔۔ زونی نے ایک پل کو نگاہ اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔۔۔۔ اور وہی ایک پل۔۔۔ بس وہی ایک پل تھا جب اس اجنبی کی محبت نے اس کے دل میں گھر کر لیا۔۔۔ دھڑکنوں کی لے بدلنے لگی۔۔۔ اس کی نگاہ یوں جم سی گئ اس اجنبی پر کہ پھر پلٹنے سے انکار کر دیا۔۔۔ اسے لگا وہ پتھر کی مورت بن گئ ہے۔۔۔ "میرا نام فہد لغاری ہے۔۔۔ اور آپ کا؟؟؟" چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ سجاۓ اس نے ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔ لیکن وہ ہوش میں ہی کہاں تھی۔۔۔ گم صم سی بس اسے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔چھبیس سالہ نوجوان جو سفید ڈریس پینٹ کے ساتھ گہری نیلی شرٹ اور اوپر سفید کوٹ پہنے شہزادہ معلوم ہو رہا تھا۔۔۔ جس کی گہری سیاہ آنکھوں میں وہ کھو سی گئ تھی۔۔۔

"تیرا دیدار ہی آنکھوں کی تلاوت ٹھہرا
یہ میرا عشق مقدس ہے عبادت جیسا"

"ہیلو۔۔۔" فہد نے اس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائ تو وہ چونکی اور نگاہیں جھکا گئ۔۔۔ 
"اے پریوں کی شہزادی۔۔۔ آپ کا نام پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہوں میں۔۔۔؟؟" ہلکی سی شرارت سے اس نے اپنا سوال دہرایا۔۔۔ "زو۔۔۔ زونی۔۔۔" بے اختیار ہی زونی کے لبوں سے پھسلا۔۔۔ کہہ کر وہ زبان داںتوں تلے دبا گئ۔۔۔نام سن کر فہد کی آنکھوں میں ستائش ابھری۔۔۔ "واؤ۔۔۔ نائس نیم۔۔۔ زونی۔۔۔" زونی کو لگا اس کے اردگرد گھنٹیوں کی خوبصورت سی آواز بجنے لگی ہے۔۔۔ آج سے پہلے کبھی اپنا نام اتنا خوبصورت نہ لگا تھا۔۔۔عجیب حالت ہو رہی تھی اس کے دل کی۔۔۔ وہ نگاہیں اٹھا کر دوبارہ اس کی جانب دیکھنے کی ہمت تک نہ کر پا رہی تھی۔۔۔ "تو مس زونی۔۔۔ اگر آپ مائنڈ نہ کریں۔۔۔ تو میں اپنے میگزین کے سر ورق کے لیے آپ کی چند تصاویر لے سکتا ہوں۔۔۔ ؟؟" فہد نے سوالیہ نگاہیں اس پر جمائیں۔۔۔ زونی کی پلکیں اٹھیں اور سبز رنگ آنکھیں فہد کے چہرے پر جم گئیں۔۔۔ لبوں سے ایک لفظ نہ نکلا تھا۔۔۔ فہد نے اس کی خاموشی کو ہاں سمجھتے ہوۓ چند تصاویر لیں۔۔۔ "تھینکس۔۔۔ بہت خوبصورت ہیں آپ۔۔۔ اور۔۔۔ یہ میرا کارڈ۔۔۔ اس نمبر پہ رابطہ کر لیجیے گا۔۔۔ آپ کو پے منٹ کر دی جاۓ گی۔۔۔" دلکش مسکراہٹ کے ساتھ پروفیشنل لہجے میں کہتا وہ اسے کارڈ تھما کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔. جبکہ اسے جاتا دیکھ کر زونی کی آنکھوں میں ابھرتے تمام جذبات مر سے گۓ۔۔۔ آنکھیں خالی ہو گئیں۔۔۔ اس کے اوجھل ہونے تک نگاہوں نے اس کا پیچھا کیا تھا۔۔۔ اور اس کے جانے کے بعد اسے اندازہ ہوا کہ یہ ان چند لمحوں میں اس کا چین، اس کا سکون لٹ چکا ہے۔۔۔ دل میں جنم لینے والا یہ جذبہ خوبصورت تھا۔۔۔ حسین ترین تھا۔۔۔ لیکن یہ محبت بہت غلط وقت میں۔۔۔ بہت غلط جگہ پر وارد ہوئ تھی اس پر۔۔۔

"اُس کی محبت زندگی سے
تعارف کی ابتدا ہے میری! "

(جاری ہے۔۔۔)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے