وہ اک لمحہ محبت از آیت نور (قسط 3)


وہ_اک_لمحۂ_محبت

از_آیت_نور
قسط_نمبر_3
سیکنڈ_لاسٹ_قسط


محبت قطرہ قطرہ زہر بن کر۔۔۔
بسیرا کر رہی تھی اس کے اندر۔۔۔
جسم یوں نیلگوں سا ہو رہا تھا۔۔۔
سکون و چین بھی سب کھو رہا تھا۔۔۔
ہجر کا درد ہر پل ڈس رہا تھا۔۔۔
وہ ایسا روگ تھا جو دل میں بس رہا تھا۔۔۔
وہ جو ہر چھوٹے دکھ پہ چینخ اٹھتی تھی۔۔۔
اب اس کی ذات ہر پل عشق میں سلگتی تھی۔۔۔ 
لاحاصل تھی اس کی جنونی محبت۔۔۔
اذیت سے بھری تھی اس کی چاہت۔۔۔
وہ ہر پل رب سے شکوے کر رہی تھی۔۔۔
وہ اک معصوم لڑکی مر رہی تھی۔۔۔

"زونی پتر۔۔۔ کیا ہوا ہے تجھے۔۔۔ کیوں اتنی خاموش رہتی ہے۔۔۔ کوئ پریشانی ہے تو مجھے بتا۔۔۔ " وہ سر منہ لپیٹے چارپائ پر پڑی تھی جب اماں اس کے قریب آئیں۔۔۔ ایک مہینے کے اندر اندر زونی اتنی کنزور ہو گئ تھی کہ وہ اسے دیکھتیں تو دل ہولنے لگتا۔۔۔ بولتی تو پہلے بھی نہ تھی۔۔۔ لیکن اب تو یوں ہو گئ تھی گویا منہ میں زبان ہی نہ ہو۔۔۔ "کچھ نہیں ہوا اماں۔۔۔ آپ پریشان مت ہوں۔۔۔" اماں کے قریب آ کر بیٹھنے پر وہ بھی اٹھ بیٹھی۔۔۔ اس کا سوگوار سا چہرہ دیکھ کر اماں تڑپ کر رہ گئیں۔۔۔ آنکھوں کے گرد حلقے دن بہ دن گہرے ہوتے جا رہے تھے۔۔۔ بے تحاشا رونے کے باعث ہر وقت آنکھیں گلابی گلابی سی رہتیں۔۔۔ بے شک وہ چھپ کر روتی تھی لیکن سوجے ہوۓ پپوٹے سارا راز کھول دیتے۔۔۔ اور وہ تو ماں تھیں۔۔۔ اس کی حالت سے بے خبر کیسے رہ سکتی تھیں۔۔۔ بار بار اس سے وجہ پوچھتیں۔۔۔۔ لیکن وہ ہر بار انہیں ٹال جاتی۔۔۔
"تو پتر۔۔۔ پھر پہلے کی طرح ہنستی بولتی کیوں نہیں۔۔۔ کسی سے بات نہیں کرتی۔۔۔ کتنے دن سے اپنی من پسند جگہ پر بھی نہیں گئ۔۔۔ تم تو ایک دن دور نہیں رہ سکتی تھی ان پھولوں سے۔۔۔ اب کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔ اپنی حالت دیکھو۔۔۔ کتنی کمزور ہو گئ ہو۔۔۔ جن کی شادی ہونے والی ہو وہ ایسے مرجھا تو نہیں جاتیں۔۔۔ " اماں جو پہلے ہر وقت اسے ڈانٹتی رہتی تھیں اب خود ہی اس کی فکر میں گھل رہی تھیں۔۔۔ " بس ویسے ہی اماں۔۔۔ گھر سے باہر جانے کو دل نہیں چاہتا۔۔۔ " آنسوؤں کا گولہ سا حلق میں پھنسنے لگا تھا لیکن وہ ماں کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ اپنی بے بسی کا تماشا نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔ تبھی ضبط سے سرخ پڑتا چہرہ جھکا گئ۔۔۔ اور چند لمحوں بعد ہی وہاں سے اٹھ گئ کہ اگر اماں مزید کچھ پوچھتیں تو اب کی بار منہ سے الفاظ نکلنے سے پہلے اس کے آنسو چھلک پڑتے۔۔۔ اماں نے دکھ بھری نگاہوں سے اس کی پشت کو دیکھا۔۔۔ نہ جانے کیا دکھ لگ گیا تھا ان کی بیٹی کو جو اسے اندر ہی اندر کھاۓ جا رہا تھا۔۔۔ علینہ نے بھی ایک دو بار پوچھنے کی کوشش کی لیکن وہ کسی کو اپنے دل کی بات بتانے پر راضی ہی نہ تھی۔۔۔۔ 
زونی ماں کی نظروں سے تو بچ کر باہر آ گئ لیکن نل کے قریب پہنچ کر ضبط ہاتھوں سے چھوٹ گیا۔۔۔ منہ پر پانی کے چھپاکے مارتے ہوۓ وہ ہچکیوں سے رونے لگی۔۔۔ خود پر قابو پانے کی بہت کوشش کی لیکن ہر کوشش آج ناکام ثابت ہو رہی تھی۔۔۔۔ وہ وہیں نیچے بیٹھ کر ہاتھوں میں چہرہ چھپا گئ۔۔۔ وجود لرز رہا تھا۔۔۔ 
"زونی۔۔۔ اے زونی۔۔۔" عاشی دور سے ہی اسے آوازیں دیتی ہوئ آ رہی تھی۔۔۔ زونی نے سر اٹھایا۔۔۔ جلدی سے آنسو صاف کیے۔۔۔۔ منہ پر پانی کے چھینٹے ڈال کر گویا آنسوؤں کے نشان مٹانے چاہے۔۔۔ جب تک عاشی اس کے قریب آئ وہ دوپٹے کے پلو سے چہرہ تھپتھپا رہی تھی۔۔۔ عاشی نے کچھ کہنے کو لب وا کیے ہی تھے لیکن پھر رک گئ۔۔۔ وہ غور سے زونی کا چہرہ دیکھ رہی تھی جو نظریں چرا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔۔ "تجھے کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟" عاشی نے کہتے ہوۓ اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔ زونی کا وجود تپ رہا تھا بخار کی شدت سے۔۔۔ "اللہ اللہ۔۔۔ بخار میں جل رہی ہو تم۔۔۔ یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔ چلو اندر۔۔۔ کوئ دوا لی یا نہیں۔۔۔ ؟؟" عاشی اس کا ہاتھ تھام کر اسے اندر لے جانے لگی جب زونی نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔۔۔ عاشی نے حیرت سے اس کی اس حرکت کو دیکھا۔۔۔ "مم۔۔۔ میں ابھی آئ ہوں اندر سے۔۔۔ کچھ دیر باہر رہنا چاہتی ہوں۔۔۔ " ہلکی سی آواز میں کہا یوں جیسے اس کی منت کر رہی ہو۔۔۔ اور پھر وہاں سے چلتی ہوئ اوپر سر سبز پہاڑ کی جانب جانے لگی۔۔۔ اپنے ساتھیوں کے پاس۔۔۔ ان پھولوں کے پاس جنہیں کتنے دن سے اس نے دیکھا تک نہ تھا۔۔۔۔ سر جھکاۓ وہ چلتی جا رہی تھی۔۔۔ اس کا عجیب سا رویہ عاشی کی سمجھ سے بالا تر تھا۔۔۔ کچھ لمحے سوچنے کے بعد وہ بھی اس کے پیچھے ہی چل دی۔۔۔
جب وہ وہاں پہنچی زونی ایک طرف پڑے بڑے سے پتھر پر بیٹھی تھی۔۔۔ گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹ کر ان پر سر رکھے۔۔۔ آنکھیں بالکل خالی اور ویران تھیں۔۔۔ اس جگہ آ کر تو وہ بہت چہکتی تھی۔۔۔ پھر اب کیا ہوا اسے۔۔۔ یوں گم صم کیوں ہے بھلا۔۔۔ عاشی سوچتی ہوئ اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گئ۔۔۔ بہت سے لمحے یونہیں بغیر کسی آہٹ کے گزر گۓ۔۔۔
"شادی کی تیاری کہاں تک پہنچی۔۔۔؟؟" جب بہت دیر تک دونوں کے درمیان خاموشی چھائ رہی تو عاشی نے ہی بات شروع کرنے کی غرض سے پوچھا۔۔۔ زونی نے زخمی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا اور اگلے ہی پل رخ موڑ گئ۔۔۔ عاشی پریشان سی اسے دیکھے گئ۔۔۔ پہلے کبھی اس نے عاشی کے ساتھ ایسا رویہ اختیار تو نہ کیا تھا۔۔۔ وہ اٹھ کر اس کے پاس چلی آئ۔۔۔ اس کے سامنے بیٹھ کر اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔۔۔ "زونی کیا بات ہے۔۔۔ کس وجہ سے پریشان ہو۔۔۔؟؟" اس کے لہجے میں فکر مندی تھی۔۔۔ اور زونی۔۔۔ ماں کے سامنے تو وہ آنسو چھپا گئ تھی لیکن عاشی کے سامنے پردہ نہ رکھ پائ۔۔۔ اس کی بات پر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔ "زونی۔۔۔ کیا ہو گیا ہے۔۔۔ ایسی کیا بات ہو گئ ہے جو تم یوں رو رہی ہو۔۔۔ شادی سب کی ہوتی ہے۔۔۔ تم کوئ انوکھی تو نہیں ہو۔۔۔ پریشان کیوں ہو رہی ہو۔۔۔ جب کبھی میکے آیا کرو گی رہنے تو یہاں بھی آ جایا کرنا۔۔۔ اس میں آنسو بہانے کی کیا بات ہے۔۔۔؟؟" عاشی نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔۔۔ زونی نے بے دردی سے اپنے آنسو صاف کیے اور اس کے سامنے سے اٹھ گئ۔۔۔ چند قدم کے فاصلے پر وہ دوسری جانب منہ کیے کھڑی تھی۔۔۔ "عاشی۔۔۔ اماں ابا سے کہو مجھے یہ شادی نہیں کرنی۔۔۔ " ہچکیوں کے درمیاں بھرائ آواز میں کہتے ہوۓ اس نے عاشی کے سر پر بم پھوڑا۔۔۔ وہ تو ہکا بکا اس کی پشت کو ہی تکتی رہ گئ۔۔۔ چند لمحے لگے اسے زونی کی بات سمجھنے میں۔۔۔ وہ تیزی سے اٹھ کر زونی کے قریب آئ اور بازو سے کھینچ کر اس کا رخ اپنی جانب کیا۔۔۔ "کیا۔۔۔ کیا کہا تم نے۔۔۔؟؟ پھر سے کہنا ذرا۔۔۔" عاشی کے لہجے میں دبا دبا سا غصہ تھا۔۔۔ زونی خائف سی ہو گئ۔۔۔ "میں نے کہا مجھے یہ شادی نہیں کرنی۔۔۔ " اس نے دل کڑا کر کے ایک بار پھر اپنا فیصلہ سنایا۔۔۔ "تم پاگل ہو کیا۔۔۔ ایسے کیسے شادی سے انکار کر سکتی ہو۔۔۔بچپن سے تم منسوب ہو حمزہ سے۔۔۔ تب تمہیں یاد نہیں آیا انکار کرنا۔۔۔ اور اب جب ساری تیاریاں ہو چکی ہیں۔۔۔ سارے بستی والوں کو دعوت دی جا چکی ہے۔۔۔ صرف دس دن رہ گۓ ہیں شادی میں تو تمہیں انکار کرنے کی سوجھ رہی ہے۔۔۔ " عاشی کے آواز غصے اور صدمے سے بھرپور تھی۔۔۔ 
"عاشی تم سمجھ کیوں نہیں رہی۔۔۔ میرے لیے اب ممکن نہیں رہا یہ شادی کرنا۔۔۔ پہلے اعتراض نہیں تھا لیکن اب۔۔۔ اب نہیں کر سکتی میں یہ شادی۔۔۔ میرا دل ہی مجھ سے بغاوت کر گیا ہے تو میں کیا کروں۔۔۔ پلیز میری مجبوری سمجھنے کی کوشش کرو۔۔۔ " انگلیاں چٹخاتی، ضبط کرتی وہ اسوقت بے بسی کی انتہاؤں کو چھو رہی تھی۔۔۔ "کیوں۔۔۔ اب کیا ہوا ہے ایسا۔۔۔ ایسی کیا بات ہے زونی جو تم ہم سے چھپا رہی ہو۔۔۔ کیوں انکار کر رہی ہو اس شادی سے۔۔۔ ؟؟" عاشی کا دل چاہ رہا تھا اس کی ان احمقانہ باتوں پر پے در پے تھپڑ رسید کر دے اس کے چہرے پر۔۔۔ "کیونکہ مجھے کسی اور سے محبت ہو گئ ہے۔۔۔ کسی اور کو چاہنے لگی ہوں میں۔۔۔ کیسے کروں میں یہ سب۔۔۔ کیسے کسی اور کو دل میں بسا کر شادی کسی اور سےکر لوں میں۔۔۔ پچھلے ایک ماہ سے اذیت کی بھٹی میں جھلس رہی ہوں میں۔۔۔ پچھلے ایک ماہ سے میرا سکون، میرا اطمینان غارت ہو کر رہ گیا ہے۔۔۔ اور جب میں خود ہی پرسکون نہیں تو اس نۓ رشتے میں بندھنے کے بعد حمزہ کو کیسے سکون دے پاؤں گی۔۔۔ کیسے اسے خوش رکھ پاؤں گی میں۔۔۔ " وہ چینخ اٹھی تھی۔۔۔۔ برداشت ختم ہو رہی تھی آہستہ آہستہ۔۔۔ وہ دھیمی مزاج کی لڑکی پہلی بار ثد درجہ بدتمیزی پر اتر آئ تھی تو اس سے ہی ظاہر تھا کہ وہ اندر سے کس قدر ڈپریشن کا شکار ہو چکی ہے۔۔۔ عاشی تو گنگ ہی رہ گئ۔۔۔ سمجھ ہی نا سکی کہ زونی کہہ کیا رہی ہے۔۔۔ 
"کک۔۔۔ کون ہے وہ۔۔۔ ؟؟" چند لمحوں بعد وہ بولنے کے قابل ہوئ تو یوں لگا جیسے کسی کھائ سے اس کی آواز آ رہی ہو۔۔۔ اور زونی کو تو کسی آسرے کی تلاش تھی کہ اکیلے یہ بوجھ سہنا مشکل ترین ہو چکا تھا اسی لیے اس نے اپنا دل کھول کر رکھ دیا عاشی کے سامنے۔۔۔ ہر ہر بات بتا دی اسے۔۔۔ 
سب بتانے کے بعد دونوں خاموش تھیں۔۔۔ کہنے کو کسی کے پاس کچھ نہ تھا۔۔۔ نہ زونی کے پاس۔۔۔ نہ ہی عاشی کے پاس۔۔۔
"تم جانتی ہو۔۔۔ اس سب کے بعد۔۔۔ بستی والے ۔۔۔تمہارا ۔۔۔۔کیا حشر کریں گے۔۔۔ ؟؟" الفاظ عاشی کے لبوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر برآمد ہوۓ۔۔۔ زونی سر جھکا گئ۔۔۔ اپنی سزا وہ اچھی طرح جانتی تھی۔۔۔ عجب دوراہے پر آ کھڑی ہوئ تھی وہ۔۔۔ دونوں اپنی اپنی جگہ پر سوچ میں ڈوبی تھیں۔۔۔ چند لمحوں بعد عاشی اٹھ کھڑی ہوئ۔۔۔ "میں چلتی ہوں۔۔۔ " فقط اتنا کہہ کر وہ وہاں سے چلی گئ کہ اسے دینے کو کوئ تسلی، کوئ دلاسہ نہ تھا اس کے پاس۔۔۔ زونی خاموش نظروں سے اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں کچھ تلاشنے لگی۔۔۔

"اگرچہ وقت مرہم ہے
مگر کچھ وقت لگتا ہے
کسی کو بھول جانے میں
دوبارہ دل بسانے میں
... ابھی کچھ وقت لگنا ہے
ابھی وہ درد با قی ہے
میں کس طرح نئی الفت میں
اپنی ذات گم کر دوں
کہ میرے جسم و وجدان میں
...ابھی وہ فرد باقی ہے
ابھی اس شخص کی
مجھ پرنگاہ سرد باقی ہے
ابھی تو عشق کے رستوں کی
مجھ پر گرد باقی ہے
ابھی وہ درد باقی ہے"

⭐⭐⭐⭐⭐⭐

رات کے نو بج رہے تھے جب وہ اپنے شاندار سے بنگلے میں داخل ہوا۔۔۔ سارے دن کا تھکا ہارا جب وہ گھر آتا تو بس ایک نظر دیا کو دیکھنے کی شدید خواہش دل میں ابھرتی۔۔۔ اور وہی ایک نظر اسے اندر تک سرشار کر دیتی تھی۔۔۔ اب بھی اندر داخل ہوتے ہی نظریں چاروں طرف اس کی تلاش میں بھٹک رہی تھیں۔۔۔ کوٹ صوفہ پر اچھال کر وہ اپنے کمرے کا رخ کرنے لگا تھا کہ دیا اس وقت اپنے کمرے میں ہی کوئ کتاب پڑھنے میں مگن ہوتی۔۔۔ پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی بے اختیار نظر امریکن طرز پر بنے کچن تک گئ جہاں دیا کی پشت دکھائ دے رہی تھی۔۔۔ وہ روم میں جانے کا ارادہ موقوف کرتا کچن تک چلا آیا۔۔۔ "ہیلو سویٹ ہارٹ۔۔۔" کچن میں داخل ہوا تو وہ کچھ بنانے میں مصروف تھی۔۔۔ فہد نے اس کی پیشانی پر مہر محبت ثبت کی۔۔۔ فریج میں سے پانی کی بوتل نکال کر گلاس میں پانی انڈیلنے لگا ۔۔"تم کیوں کر رہی ہو یہ سب۔۔۔ ہاتھ خراب ہو جائیں گے۔۔۔ نینسی کہاں ہے۔۔۔ یہ اس کی جاب ہے نا۔۔۔ " لہجے میں ہلکی سی ناگواری لیے وہ چئیر گھسیٹ کر بیٹھا اور پانی پینے لگا۔۔۔ ساتھ ساتھ دیا کے حسین چہرے کو نگاہوں میں جذب کرنے کا کام بھی جاری تھا۔۔۔ دیا مسکرا دی اس کی بات پر۔۔۔ جانتی تھی کہ فہد کو اسکا یوں کچن میں کام کرنا پسند نہ تھا۔۔۔ "نینسی کو میں نے آج بھیج دیا۔۔۔ بور ہو رہی تھی۔۔۔ سوچا آج اپنے پیارے سے ہبی کے لیے خود اپنے ہاتھوں سے کچھ بناؤں۔۔۔" دیا کے لہجے میں محبت ہی محبت تھی۔۔۔ فہد نے گلاس ایک جانب رکھا اور شیلف سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ یوں کہ اب براہ راست دیا کے چہرے کو دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔ "ایسے مت دیکھیں۔۔ کچھ کچھ ہونے لگتا ہے۔۔۔" دیا نے نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبا کر مسکراہٹ روکی۔۔. کام میں مصروف ہو کر بھی وہ فہد کی نگاہوں کا ارتکاز محسوس کر سکتی تھی۔۔۔ "اچھا۔۔۔ اور سارا دن تم سے دور رہ کر جو مجھے کچھ کچھ ہوتا ہے اس کا کیا۔۔۔؟؟" فہد نے فروٹ باسکٹ سے ایک سیب اچکا اور دیا کے سامنے کیا۔۔۔ دیا نے ایک بائٹ لی اس کے بعد فہد نے سیب میں دانت گاڑ دئیے۔۔۔ دیا نے اس کی بات کا کوئ جواب نہیں دیا۔۔۔ "فہد۔۔۔" چند لمحوں بعد دیا نے اسے مخاطب کیا۔۔۔ "جی جان فہد۔۔۔" وہ تو پہلے ہی ہمہ تن گوش تھا۔۔۔ "سجاد بھائ کا کام کیا آپ نے۔۔۔؟؟؟" وہ سلیب سے چیزیں سمیٹتی ہوئ پوچھ رہی تھی۔۔۔ "کونسا کام۔۔۔؟؟؟ " سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا "وہی۔۔۔ اس لڑکی کا ایڈریس مانگ رہے تھے نا وہ۔۔۔ " دیا جھنجھلا سی گئ اس کی غائب دماغی پر۔۔۔ اس کی بات سن کر فہد کے منہ کے زاویے بگڑے۔۔۔ "یار۔۔۔ مجھے خود اس کا ایڈریس نہیں معلوم۔۔۔ انہیں کیسے دوں۔۔۔ وہ تو اچانک نظر آ گئ تو تصویریں لے لیں میں نے۔۔۔ " فہد کے لہجے میں اکتاہٹ سی تھی۔۔۔ یوں جیسے وہ اس موضوع پر بات ہی نہ کرنا چاہتا ہو۔۔۔ دیا نے خفگی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔ "جہاں وہ آپ کو ملی تھی وہیں آس پاس کہیں رہتی ہو گی۔۔۔ حد کرتے ہیں آپ بھی۔۔۔ ایک چھوٹا سا کام کہا وہ بھی نہیں کر سکتے۔۔۔ " وہ خفا سی رخ موڑ گئ۔۔۔ فہد جی بھر کر بیزار ہوا۔۔۔ "اچھا یار۔۔۔ موڈ خراب مت کرو اب اپنا۔۔۔ کرتا ہوں کچھ۔۔۔ ایک دو دن میں وقت ملتا ہے تو پھر جاؤں گا اس ایریا میں۔۔۔ یا ایسا کرنا۔۔۔ تم بھی میرے ساتھ چلنا۔۔۔ ڈھونڈ لیں گے اسے اور تم خود ہی بات کر لینا اس سے۔۔۔ "فہد نے بات ختم کرنے والے انداز میں کہا۔۔۔ دیا نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔ "آپ فریش ہو جائیں۔۔۔ میں بس کھانا لگا رہی ہوں۔۔۔ " وہ اب چولہا بند کر رہی تھی۔۔۔ فہد اوکے کہتا ہوا وہاں سے نکلا اور سیڑھیاں پھلانگتا ہوا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

⭐⭐⭐⭐⭐⭐

"ابھی ضد نہ کر دل بے خبر 
کہ پس ہجوم ستم گراں...!! 
ابھی کون تجھ سے وفا کرے 
ابھی کس کو فرصتیں اس قدر 
کہ سمیٹ کر تیری کرچیاں 
تیرے حق میں خود سے دعا کرے..!!!"

وہ دیوار سے سر ٹکاۓ آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی۔۔۔ ذہن کے پردے پر نہ جانے کون کون سے خیالات رہے تھے۔۔۔ تبھی عاشی پھولے ہوۓ سانس کے ساتھ وہاں داخل ہوئ۔۔۔ اردگرد نظریں گھمائیں تو وہ ایک طرف کونے میں گم صم سی بیٹھی نظر آئ۔۔۔ "زونی۔۔۔"عاشی پریشان سی اسے پکارتی اس کے نزدیک آئ۔۔۔ آواز پر زونی نے آنکھیں کھولیں۔۔۔ تو عاشی کو اپنے سامنے بیٹھا پایا۔۔۔ نہ جانے کب آنسو اس کے گال بھگو گۓ تھے۔۔۔ اس نے آنسو صاف کیے قور عاشی کی جانب متوجہ ہوئ۔۔۔ "زونی۔۔۔ وہ۔۔۔ رفیق چچا کا بیٹا ہے نا۔۔۔ وسیم۔۔۔ وہ شہر گیا تھا۔۔۔ اور۔۔۔ وہاں اس نے تیری تصویر دیکھ لی۔۔۔ وہ جو شہری لڑکا آیا تھا نا یہاں۔۔۔ جو تیری تصویریں لے کر گیا تھا۔۔۔ اس نے میگزین کے پہلے صفحے پر تیری تصویر چھاپ دی ہے۔۔۔ اور وہ میگزین شہر میں جگہ جگہ دکانوں میں پڑے ہیں۔۔۔ یونہی چلتے چلتے اس وسیم کی نظر تیری تصویر پر پڑ گئ۔۔۔ اور وہ اس میگزین کو بستی میں لے آیا۔۔۔ یہاں سب کو دکھا دی اس نے وہ تصویر۔۔۔ سارے بستی والے باتیں بنا رہے ہیں۔۔۔ تیرے خلاف بول رہے ہیں۔۔۔ اتنی بے عزتی ہو رہی ہے تیری اور تیرے اماں ابا کی پوری بستی میں۔۔۔ خان بابا (گاؤں کے سرپرست اور کرتا دھرتا) شدید غصے میں ہیں اس وقت۔۔۔ اس بات پر کہ اس بستی کی عزت کی تصویریں یوں سر عام بازاروں میں بک رہی ہیں۔۔۔ " عاشی رکے بنا سب بتاتی چلی گئ۔۔۔ "جانتی ہوں۔۔۔"زونی نے اذیت سے آنکھیں بند کیں۔۔۔اور تھک کر سر پھر دیوار سے ٹکا دیا۔۔۔
"اور۔۔۔ تمہارے اماں ابا اسی لیے حمزہ کے گھر گۓ ہیں۔۔۔ ان کی منت سماجت کرنے۔۔۔ وہ لوگ شاید اس رشتے سے انکار کرنا چاہ رہے ہیں۔۔۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ایسی لڑکی جو پوری بستی میں بدنام ہو چکی انہیں اس لڑکی کو اپنے گھر کی بہو نہیں بنانا۔۔۔ اور۔۔۔۔ " عاشی کی آواز بھرا سی گئ۔۔۔ چند پل زونی خاموش رہی۔۔۔ پھر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔۔ "اماں ابا گھر آتے ہیں۔۔۔ تو میں خود ان کے سامنے اس شادی سے انکار کر دوں گی۔۔۔ " زونی مضبوط لہجے میں کہہ گئ۔۔۔ عاشی پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھے گئ۔۔۔ "تو پاگل ہو گئ ہے کیا۔۔۔ تیرے ماں باپ وہاں جا کر ان کے پاؤں پکڑ رہے ہیں کہ یہ شادی نہ توڑیں اور تو ان کی ہی بے عزتی کروانے پر تلی ہوئ ہے۔۔۔ ہوش کر زونی۔۔۔ کس کے لیے کر رہی ہے تو یہ سب۔۔۔ اس کے لیے۔۔۔ جسے فقط ایک نظر دیکھا تو نے بس۔۔۔ جس کے نام کے سوا کچھ جانتی تک نہیں اس کے بارے میں۔۔۔ کون ہے۔۔۔ کہاں رہتا ہے۔۔۔ کیا کرتا ہے۔۔۔ کس مزاج کا ہے۔۔۔ کیا جانتی ہے اس کے بارے میں تو۔۔۔؟؟؟ ایک اجنبی کے لیے اپنے ماں باپ کو زندہ درگور کرنے پر تلی ہے۔۔۔ اس سے تو اچھا تھا تو پیدا ہوتے ہی مر گئ ہوتی۔۔۔ " عاشی چیںخ اٹھی تھی اس کی ضد پر۔۔۔۔ زونی حالات کی سنگینی کو سمجھ نہیں رہی تھی۔۔۔ وہ جانتی نہیں تھی کہ اس سب کے بعد اس کا کیا حشر ہو سکتا تھا۔۔۔ اور عاشی اسے برے انجام سے بچانا چاہ رہی تھی۔۔۔ لیکن زونی تو جیسے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے ہی محروم ہو گئ تھی۔۔۔ عاشی کی باتوں پر وہ ایک لفظ نہ بول پائ۔۔۔ 
"زونی۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے مت کرو یہ سب۔۔۔ تم اس بستی کے لوگوں کو جانتی ہو اچھی طرح۔۔۔ خان بابا کو جانتی ہو کہ ان کے فیصلے کتنے سخت ہوتے ہیں۔۔۔ وہ یہ سب سنیں گے تو جان لے لیں گے تیری۔۔۔ مت کرو اپنے آپ پر یہ ظلم۔۔۔ کیا معلوم جس کے لیے تم اپنے آپ کو تباہ کر رہی ہو وہ اپنی زندگی میں مگن ہو۔۔۔ خوش ہو۔۔۔ یہ جو شہر کے لوگ ہوتے ہیں یہ صرف جذبات سے کھیلنا جانتے ہیں۔۔۔ پیار، محبت، جذبات و احساسات کی کوئ قدر نہیں ان کے نزدیک۔۔۔ تمہارے یہ جذبے کبھی قدر نہیں پا سکیں گے۔۔۔ کبھی تمہاری آہیں، تمہاری فریادیں اس تک نہ پہنچ سکیں گی۔۔۔ اور اگر پہنچ بھی گئیں تو وہ کبھی تمہارے ان جذبات کی حوصلہ افزائ نہیں کرے گا۔۔۔ شہر کے لوگوں کو میرے جیسی، تمہارے جیسی ان پڑھ گنوار لڑکیاں پسند نہیں آتیں۔۔۔ وہ اپنے جیسے شہر کے لوگوں کو ہی پسند کرتے ہیں۔۔۔ سنبھل جاؤ زونی۔۔۔ اور حالات سے سمجھوتا کر لو۔۔۔" عاشی تھکنے لگی تھی اسے سمجھاتے سمجھاتے۔۔۔ 
"عاشی۔۔۔ تم میرا ایک کام کرو گی۔۔۔ ؟؟" اذیت بھرے لہجے میں وہ فقط اتنا ہی بولی۔۔۔ عاشی چند پل کے لیے چپ سی ہو گئ۔۔۔ "ہاں بولو۔۔۔" عاشی کے کہنے پر وہ اٹھی۔۔۔ اور ایک طرف پڑی الماری کے دراز کھول کر کچھ تلاشنے لگی۔۔۔ چند لمحوں بعد وہ واپس آئ تو ہاتھ میں کچھ تھا۔۔۔ وہ عاشی کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئ۔۔۔ "تمہارا ایک کزن بھی تو شہر میں رہتا ہے نا۔۔۔ یہ کارڈ اس تک پہنچا دو کسی طرح۔۔۔ اس سے کہو کہ کیسے بھی کر کے فہد لغاری سے رابطہ کرے۔۔۔ ایک بار۔۔۔ صرف ایک بار اسے میرے بارے میں۔۔۔ میرے جذبوں کے بارے میں بتاۓ۔۔۔ اسے کہے کہ بس ایک بار وہ یہاں آۓ۔۔۔ میں اس سے ملنا چاہتی ہوں۔۔۔ شادی سے پہلے۔۔۔ پلیز عاشی۔۔۔ پلیز انکار مت کرنا۔۔۔" عاشی کے لب کھلتے دیکھ کر وہ منتوں پر اتر آئ۔۔۔ عاشی کی زبان ہی گنگ سی ہو گئ۔۔۔ سامنے بیٹھی وہ لڑکی سچ میں پاگل ہو چکی تھی شاید۔۔۔ عاشی کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے۔۔۔ "کیا کرو گی اس سے مل کر۔۔۔ کیا کہو گی اسے۔۔۔ اگر اپنے دل کی بات بیان کرنے کے بعد بھی ٹھکرا دی گئ تو اذیت سہہ نہیں پاؤ گی زونی۔۔۔ " وہ نم آنکھوں سے زونی کے ویران سے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ "میں اس سے کچھ نہیں کہوں گی۔۔۔ کچھ نہیں بتاؤں گی۔۔۔ صرف ایک نظر اسے دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔ وہ ایک لمحہ جس لمحے میں مجھے اس سے محبت ہوئ اس ایک لمحے کو پھر سے جینا چاہتی ہوں۔۔۔ میں جانتی ہوں میں غلط کر رہی ہوں۔۔۔ جانتی ہوں یہ میری زندگی کی سب سے بڑی خطا ہو گی جس کا انجام برا ہو گا۔۔۔ بہت برا۔۔۔ لیکن میں خود کو مجبور پاتی ہوں اس معاملے میں۔۔۔ تم اسے میری آخری خواہش سمجھ لو۔۔۔ میں نے کبھی اسے پانے کی خواہش نہیں کی۔۔۔ کبھی اس کے حصول کا نہیں سوچا۔۔۔ کیونکہ جانتی ہوں کہ میں اس کے قابل نہیں۔۔۔ میری اس کے نزدیک بھلا کیا اوقات۔۔۔" وہ خود اذیتی کی انتہا پر تھی۔۔۔ خود اپنے بارے میں ایسا تجزیہ کرنا جان لیوا تھا اور وہ ان کڑے لمحات سے گزر رہی تھی۔۔۔ "میرے دل کی صرف دو ہی حسرتیں ہیں اب۔۔۔ صرف دو۔۔۔ پہلی یہ کہ۔۔۔ اسے ایک نظر دیکھ سکوں۔۔۔ جی بھر کر۔۔۔ آنکھوں میں سما لوں ہمیشہ کے لیے۔۔۔ اور دوسری۔۔۔" وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی لیکن پھر بھی بات جاری رکھی۔۔۔ "اور دوسری یہ۔۔۔ کہ۔۔۔ جب میں مروں تو فقط ایک بار۔۔۔ وہ میری قبر پر آۓ۔۔۔ نم آنکھوں سے۔۔۔ اور وہاں۔۔۔ میری قبر پر ایک دیا جلا دے۔۔۔ یہی میری محبت کا انعام ہو گا۔۔۔ یہی میری محبت کی فتح ہو گی۔۔۔ اس سے زیادہ تو کچھ نہیں چاہا۔۔۔ میری دیوانگی۔۔۔ میری بے پناہ چاہت کے بدلے زندگی مجھے اتنا تو نواز سکتی ہے نا۔۔۔ " وہ بے دم سے ہو گئ بات کے اختتام تک۔۔۔ عاشی بھیگی آنکھوں سے اس جنونی اور دیوانی لڑکی کو دیکھے گئ۔۔۔ جب ضبط کرنا مشکل ہونے لگا تو وہ وزیٹنگ کارڈ ہاتھ میں تھامے آنسو صاف کرتی تیزی سے وہاں سے نکلتی چلی گئ۔۔۔ جبکہ پیچھے وہ نازک سی لڑکی تنہا رہ گئ جس کی قسمت میں شاید ہمیشہ کے لیے رونا لکھ دیا گیا تھا۔۔۔

"آج پوچھے نہ کوئی______ ہم سے صبر کے معانی
آج ہم زندگی کی _____ آخری منزل پہ کھڑے ہیں"

(جاری ہے۔۔۔)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے