روح_کا_رشتہ
تحریر _انا_الیاس
تیسرا اور آخری حصہ
اگلے دن صبح جب حورين کی آنکھ کھلی تو اردگرد کے ماحول سے مانوس ہونے ميں۔ حيران ہوتے اپنے چکراتے سر کو تھام کر بيڈ پر اٹھ کر بيٹھی۔ پھر يکدم ياد آيا کہ رات کو حديد پہ اپنا غصہ نکال کر وہ ساتھ والے کمرے ميں آ کرروتے روتے سو گئ تھی۔
اپنا بھاری ھوتا سر پکڑے کتنی دير وہ بے حس و حرکت وہيں بيٹھی رہی۔ رات کے تمام مناظر کسی فلم کی طرح دماغ کی سکرين پر چل رہے تھے۔ رات ميں جو بہادری دکھا آئ تھی اب خوفزدہ تھی کہ کہيں جزبات ميں حديد کوئ بڑا قدم نہ اٹھا لے۔آخر ايک لڑکی کا تھپڑ کوئ مرد کہاں برداشت کرتا ہے چاہے وہ مرد اسکا شوہر ہی کيوں نہ ہو ۔ جو بھی تھا مگر حورين کی نيت اس رشتے کو ختم کرنے کی نہيں تھی۔
خود کو سنبھالتے وہ فريش ہونے کے لئيے اٹھی۔"ممی اسطرح تو مت کريں۔ آپکو پتہ تو ہے ميرے کام کا نيچر ہی ايسی ہے۔ کسی وقت بھی کال آجاتی ہے۔ اب تو آپکو اس سب کی عادت ہو جانی چاہيے ليکن آپ ہر مرتبہ پہلے دن کی طرح ريکٹ کرتی ہيں۔" اس نے ابھی کچن کی جانب قدم بڑھاۓ ہی تھے کہ حديد کی آواز آئ۔
خود ميں ھمت پيدا کرتی آگے بڑھی۔ آخر کبھی تو اسکا سامنا کرنا تھا۔ "اسلام عليکم" حديد اور ممی ايک ساتھ اسکی جانب متوجہ ہوۓ۔ "اب کيا کہوں تمہيں پتہ نہيں تم نے يہ پروفيشن کيوں جوائن کيا۔" اسکے سلام کا جواب دے کر سائرہ بيگم پھر سے حديد سے مخاطب ہوئيں "آپکو تو فخر ہونا چاہئيے۔" حديد نے محبت سے انہيں ساتھ لگاتے ہوۓ نظروں کے فوکس ميں اس بے مہر کو رکھا۔
جو ٹيبل کے گرد رکھی چئير پے بيٹھے جوس پينے ميں ايسے مگن تھی جيسے اسکے اردگرد کوئ نہ ہو۔ حديد حسرت سے اسکو ديکھتا رہا جو اسکا سکون غارت کئيے کتنی پرسکون تھی۔
اسی لمحے حورين نے نظريں اٹھائيں۔ حديد نے جيسے ہی اسکو اپنی طرف ديکھتے پايا تو شرارت سے ہنستے ہوۓ بائيں آنکھ دبائ۔ جوس پيتی حورين کو اچھو لگ گيا۔ "ارے کيا ہوا بيٹا۔" ممی پريشانی سے اسکی جانب آئيں۔ اور جس کی وجہ سے حورين کی يہ حالت ہوئ تھی وہ مسکراہٹ دباتا کچن سے باہر چلا گيا۔
-------------------------
شام کا وقت تھا حورين مزے سےکمرے ميں بيٹھی ڈائجسٹ پڑھ رہی تھی۔ کل رات سے پھر وہ حديد کے کمرے ميں نہيں گئ تھی۔ ويسے بھی حديد واپس اپنی ڈيوٹی پر وزيرستان جا رہا تھا۔ حورين نہيں چاہتی تھی کہ اس سے سامنا ہو مگر وہ يہ نہيں جانتی تھی کہ ہر خواہش پوری نہيں ہوتی۔
دروازے پر دستک ہوئ۔"يس کم ان" حورين کی اجازت پاتے ہی جو شخص اندر آيا، حورين اس سے اس وقت روبرو ہونے کو تيار نہيں تھی۔"سوچا جانے سے پہلے آپکو ايک نظر ديکھ لوں۔ پھر پتہ نہيں کب مل پائيں۔ مليں بھی يا نہيں۔" حديد نے اپنی مسکراتی نظروں سے حورين کے گرد سحر باندھا۔ اور اس مسکراہٹ سے اسکے چہرے پر پڑنے والے ڈمپل نے حورين کی نظروں کو جکڑ ليا۔
"ميں شايد اچھے سے آپکو سوری نہيں کہہ پايا۔ کيونکہ ميں جانتا ہوں کہ جو کچھ ميں نے کيا اسکے لئيے يہ لفظ بہت چھوٹا ہے۔ سو ميں اپنے عمل سے سب صحيح کرنا چاہتاتھا۔۔۔ليکن نہ وقت نے موقع ديا نہ آپ نے" اس کی نرم گرم نظروں نے حورين کو سر جھکانے پر مجبور کر ديا۔
"ليکن ميں مايوس نہيں ہوں۔ جب اللہ نے ميرے لئيے آپکو نئ زندگی دی ہے۔ تو وہ ميرے لئيے آپکے دل کو بھی نرم کرے گا۔ آئ کيں ويٹ ٹل مائ لاسٹ بريتھ۔" حورين خاموش رہی۔ جيسے ہی وہ خدا حافظ کہہ کر مڑا حورين نے آواز لگائ۔
"سنيں"وہ حيرت سے مڑا پھر شرارتی لہجے ميں بولا"مجھے روکنے لگی ہيں کيا" حورين اسکی شرارت سمجھتے لب بھينچ گئ۔ "ہا ہا!! آئ نو ابھی ميرے ايسے نصيب کہاں پليز آپ کہئيے" حديد نے سرد آہ بھر کے کہا۔"آپ۔۔۔۔آپ دوسری شادی کر ليں بس مجھے چھوڑيے گا مت مگر اب اس سب کے بعد ميرا دل آپکی جانب آنے پر آمادہ نہيں۔" حورين نے ادھر ادھر ديکھتے کانپتے لہجے ميں کہا۔
حديد پہلے تو اسکی بات سن کر دمبخود ہوا۔ پھر مسکراتے ہوۓ نفی ميں سر ہلانے لگا۔ آہستگی سے چلتا ہوا اس سے دو قدم کے فاصلے پر رکا۔ سينے پر ہاتھ باندھے کنفيوز کر دينے والی نظروں سے اسکو ديکھا جو ادھر ادھر ديکھنے ميں محو تھی۔ "آر يو سيرس۔ آپکو پتہ ہے دوسری شادی کرنے کی کنڈيشنز کيا ہيں۔۔۔ اس ميں بيلنس کا حکم ہے۔ اور آپکے لئيے تو ميں اپنا آپ فراموش کر چکا ہوں۔ دوسری کے حقوق کہاں سے پورے کروں گا۔ اور ويسے بھی کيا آپ اتنی آسانی سے مجھے کسی کے سپرد کر ديں گی؟" اسکی نگاہوں ميں جھانکتے حديد نے سوال کرکے حورين کو حيران کيا۔
"حور۔۔۔جتنی دنيا ميں ديکھ چکا ہوں۔ اسکی بدولت اب تو لوگوں کی آنکھوں کے ذريعے انکا اندر تک پڑھ ليتا ہوں۔ سو اتنا تو جان گيا ہوں کہ آپ مجھ سے نفرت نہيں کرتيں" اپنی مدہم مسکراہٹ سے حورين کے دل کا راز جانتے حديد نے اس کا سکون برباد کيا۔ "اسی لئيے اميد ہے کہ آپ ميری طرف ضرور لوٹ کر آئيں گی۔ ميں انتظار کروں گا۔" يہ کہتے ساتھ ہی حديد کمرے سے نکلتا چلا گيا۔
------------------------------
اسکے جاتے ہی حورين نے دوبارہ سے اس کے کمرے ميں قبضہ کيا۔ اگلے دن صبح ميں ہی شايان ايک بوکے ہاتھ ميں ليئے اسکے کمرے ميں آيا۔"چاچی يہ آپ کے لئيے کوئ دے کر گيا ہے۔ حوريں نے حيرت سے ديکھا تو انگلش ميں کچھ اشعار لکھے ديکھے۔
Hey stranger or may I call you my own
I know I don't know you, but there's somewhere I've seen you before
Whatever your name is, whatever you do
There's nothing between us I'm willing to loose
Just call me if ever our paths may collide
I want you to call me under these darkened sky's
Whoever you love, whoever you kiss
The wandering between us I'm willing to miss
Now I'm drifting out over deep oceans
And the tide won't take me back in
And these desperate nights I'll call you again and again
There's comfort, comfort in things we believe
Other than danger, wanting the things I can't see
Wherever you live now, wherever you walk
There's distance between us I'm willing to cross
Now I'm drifting out over deep oceans
And the tide won't take me back in
And these desperate nights I'll call you again and again
Now I'm drifting out over deep oceans
And the tide won't take me back in
And these desperate nights I'll call you again and again
Hey stranger or may I call you my own
I know I don't know you, but there's somewhere I've seen you before.
يہ الفاط اسکے فيورٹ سانگ
Between us
کے تھے۔ وہ نہيں جانتی تھی کہ کبھی يہ الفاظ اسکی زندگی کے حالات سے اتنی مطابقت رکھتے ہوں گے۔ ابھی وہ انہی سوچوں ميں گم تھی کے واٹس اپ پے ميسج کی ٹون آئ۔جيسے ہی اس نے فون چيک کيا تو کسی انجانے نمبر سے وائس ميسج آيا ہوا تھا۔ اس نے جيسے ہی پلے کيا تو حديد کی گمبھير آواز کمرے ميں گونجی۔
"صبح بخير سوئيٹ ہارٹ!۔ اميد ہے آپکو ميرے دئيے ہوۓ پھول مل گيۓ ہوں گے۔ جب سے آيا ہوں دل ہی نہيں لگ رہا اپنی شيرنی بہت ياد آرہی ہے" حديد کے لہجے کی سرارتی مسکراہٹ اسکو اس ميسج مين بھی صاف محسوس ہو رہی تھی۔ جس نے اسکے گال دہکا دئيے تھے۔ "کل سے اب تک اپنی حالت پہ ہنسی آرہی ہے کہ عشق بھی ہوا تو اپنی بيوی سے۔ اميد کرتا ہوں کہ ان پھولوں کو ڈسٹ بن کی نظر نہيں کريں گی۔ سوئيٹ وائفی۔ ٹيک کئير بائ
اور پھر تو يہ سلسلہ چل پڑا۔ روزانہ صبح ايک بوکے آتا۔ اور حورين کے موبائل پر ڈھيروں ميسجز جن ميں سے ايک کا بھی جواب حورين نہ ديتی۔ آخر ايک دن تنگ آ کر اس نے ممی سے شئير کرنے کا سوچا۔
"ممی آخر ايسا کيسے ہو سکتا ہے ايکدم سے کوئ شخص آپ سے اتنی محبت کرنے لگ جاۓ۔کل تک وہ ميری حيثيت ما ننے کو تيار نہيں تھے اور آج طوفانی محبت کے دعوے" ممی اسکی کنفيوڈ شکل ديکھ کر ہلکے سے مسکرايئں۔ "ميرے بچے نکاح کے بندھن کی ايسے ہی تو اسلام ميں اتنی اہميت نہيں نا۔دو بالکل انجان لوگ اس بندھن ميں بندھ کر اسطرح قريب ہوتے ہيں جيسے صديوں سے ايک دوسرے کو جانتے ہوں۔ ايسے ہی تواللہ نے تم دونوں کے نصيب نہيں جوڑ دئيے۔ اس نے تم دونوں کے دلوں ميں بھی محبت ڈالنی ہی تھی۔ اب جب وہ پورے دل کی آمادگی کے ساتھ تمہاری جانب بڑھ رہا ہے تو تم بھی بڑے پن کا مظاہرہ کرو۔ انا کی ديوار مت کھڑی کرو۔ بيٹا يہ رشتوں کو کھوکھلا کر ديتی ہے۔ اور آخر ميں سواۓ خسارے کے کچھ ہاتھ نہيں آتا۔ اسکو اپنی جانب آنے دو۔ کھولے دل سے اسکو معاف کرکے تو ديکھو۔رشتوں ميں خاموشی ٹھيک نہيں ہوتی۔ تمھارا رشتہ تو ابھی کہننے سننے کے مراحل ميں۔ اسے خاموشی کی نظر مت کرو۔ ميں حديد کی ماں نہيں بللکہ تمہاری ماں بن کر تم سے درخواست کر رہی ہوں۔" پليز ممی آپ حکم کريں درخواست نہيں کريں۔"
حورين نے فورا انکے گود ميں رکھے ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر انکا مان بڑھايا۔" بس پھر تم مجھ سے وعدہ کرو کہ آج ہی اسکی کال اٹينڈ کروگی۔ اور صحيح سے اسے ايک چانس دوگی۔" ممی جانتی تھيں کہ حديد روز اسے فون کرتا ہے مگر وہ اٹينڈ نہيں کرتی۔ حورين نے ان سے وعدہ کر ليا۔
-----------------------
رات ميں مخصوص وقت پر حديد کی کال آنے لگ گئ۔ وہ جانتا تھا کہ وہ نہيں اٹھاۓ گی پھر بھی مستقل مزاجی سے روز کرتا تھا۔ممی سے کئيے گئے وعدہ کی وجہ سے آج اس نے چوتھی بيل پر دھڑکتے دل کے ساتھ کال اٹينڈ کر لی۔
"اسلام عليکم" کپکپاتے لبوں سے بمشکل اس نے سلام کيا۔ دوسری جانب کتنے ہی لمحےحديد کو اپنے کانوں پر يقين نہ آياکہ کيا واقعی اس نے حورين کی آواز سن لی ہے۔
"ازديٹ رئيلی يو" بے يقينی سے حديد نے حورين سے تصديق چاہی"يس اٹس می حورين يور سو کالڈوائف" جانے کيسے اسکے منہ سے يہ تلخ الفاظ نکلے تھے حالانکہ اس نے سوچا ہوا تھا کہ تحمل سے بات کرےگی۔ليکن حديد کی جذبوں سے بھر پور آواز سن کر اسے اپنی نا قدری شدت سے ياد آئ"
"ہا ہا ہا ایسے ہی تو ميں آپکو شيرنی نہيں کہتا۔ چھکے چھڑا ديتی ہيں آپ اور اوپر سے ميموری غضب کی ہے۔"حديد نے اسے سو کالڈ وائف کہنے پر چوٹ کی۔"آپ نے کيا يہی سب بتانا تھا" حورين کو اسکی خوش مزاجی ايک آنکھ نہيں بھائ۔
"نہيں يہ پوچھنا تھا کہ کيا ايک اور تھپڑ کھانے آپ کے روبرو آسکتا ہوں۔"جذبات سے بھر پور گھمبير لہجے نے حورين کے دل کی دنيا درہم برہم کردی۔
"اس تھپڑ کے لئيے ميں کبھی آپکو سوری نہيں کہوں گی۔ سو اسکو ياددلا کر آپ جو مجھے شرمندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہيں وہ ناکام ہوگئ۔" حورين نے اپنا لہجہ سخت اور مضبوط کرکے کپکپاہٹ چھپانے کی کوشش کی۔"کون کافر آپکو شرمندہ کرنا چاہتا ہے۔ ميں تو صرف يہ جاننا چاہتا ہوں کہ اگر ہاتھ پکڑنے سے بڑھ کر کوئ جسارت کی تو کيا آپکا ري ايکشن اس سے بھی بڑھ کر خطرناک ہوگا۔" حديد کی سرگوشی نما آواز نے حورين کے چھکے چھڑاۓ۔ "آپ مجھ سے اتنی چيپ باتيں مت کريں"حورين نے اسے ٹوکتے ہوۓ کہا
"تو پھر کس سے کروں ہنی۔ اصولا تو يہ باتيں بيوی سے ہی کرنی جائز ہيں۔ مگر آپ ہاتھ ہی نہيں آ رہيں۔کيا ساری زندگی ايسے ہی گزرے گی اتنی ہی دوری پے۔" "ميں نے تو آپکو کہا تھا کہ دوسری شادی کر ليں۔ مجھ سے توقع مت رکھيں۔"حورين کی بات پر دوسری جانب خاموشی چھا گئ۔ "اور اگر ميں آپکی آفر ريجيکٹ کر دوں۔ کيا ايک بھی موقع روبرو پھر سے معذرت کا نہيں مل سکتا۔آئ بيٹ کے اگر مجھے ميرے طريقے سے موقع ديں تو ميں آپکو منا لوں گا۔" اسکے لہجے ميں چھپی بات کا مفہوم سمجھتے حورين کے دل کی دھڑکن تيز ہوئ۔
"حورين جب وہ ايکسيڈنٹ ہوا تھا تو مجھے يوں محسوس ہوا تھا کہ جيسے ميں نے آپکو کھو ديا ہے۔ميری تو قسمت اچھی تھی کہ اللہ نے آپکو مجھے لوٹا ديا۔اورمجھے موقع ملا اس رشتے کی سچائ جانی۔کيا آپ بھی کسی ايسے ہی ايکسيڈنٹ کی منتظر ہيں۔اور اگر
آپکی قسمت ميرے جتنی اچھی نہ ہوئ تو""اللہ نہ کرے" حديد کی بات کا مفہوم سمجھتے وہ بے اختيار دل تھام گئ۔
"سريسلی لو اٹ!اسکا مطلب ہے ميری محبت نے ہلکی ہلکی دستک دی ہے۔ ادروائز ميں تو آمين سننے کا منتظر تھا۔"حديد نے اسکی بے رخی پر چوٹ کی۔"اتنی بھی سنگدل نہيں ہوں۔"حورين نے ناراضگی سے کہا۔"اسکا مطلب ہے اگر کل کی فلائٹ پکڑ کر آپکے پاس آجاؤں تو آپ مجھے معزرت کرنے کا اور ان سب لمحوں کی روداد سنانے کا موقع ديں گی جب جب آپ مجھے اچھی لگيں اتنی کہ آپ سے محبت ہوگئ۔" حديد کی باتوں نے اسکی پيشانی عرق آلود کردی۔"ممی نے آج بہت سمجھايا سو ميں نے سوچا آپکو ايک موقع دينا چاہيۓ۔آپ آ جائيں۔" حديد کی مزيد کنفيرز کرنے والی باتوں سے بچنے کے نئيے وہ جلدی سے بولی۔
"ممی کا منہ تو ميں آتے ہی چوموں گا۔ اور جن لبوں نے مجھے اجازت دی ہے انکے ساتھ کيا کرنا چاہئيے۔" حديد کی بات کی گہرائ تک پہنچتے ہی حورين نے "چيپو" کہہ کر کال بند کر دی۔ تھوڑی ہی دير بعد حورين کوواٹس ايپ پہ حديد کا وائس ميسج ملا۔"مجھے اميد ہے کہ ميرے جذبے کل اپنا آپ منوا ليں گے۔ آج رات تو نيند آنی مشکل ہے۔ اب اپنی ساری نينديں آپکے قرب ميں پوری کرنے کی خوایش ہے" حورين نے اپنا چہرہ شرم سے سرخ ہوتا محسوس کيا۔ حديد کوغصے والا اموجی سينڈ کيا۔ساتھ ہی حديد نے سمائلی اور کس والا اموجی سينڈ کيا۔ اور اگلا ميسج پڑھ کر حورين اپنے آنسو روک نہيں پائ۔
"پليز ريپليس دا ورڈز مائ سو کالڈ وائف ود دا ورڈو مائ سوئيٹ وائفی" حورين کتنی دير اس ميسج سے نظريں نہيں ہٹا سکی۔"آج جس طرح آپکی ہر بات پہ دھڑکتے ہوۓ ميرے دل نے مجھ سے بے وفائ کی ہے تو مجھے يقين آگيا ہے کہ يہ دل آپکی ہر بات پر ايمان لے آيا ہے۔ اور اس نے آپکی معزرت بھی قبول کر لی ہے۔ تو پھر يہ نام نہاد انا کس بات کی-" حورين نےآنسو کئيے۔ اور حديد سے کل ہونے والی ملاقات کا سوچتے۔ آنکھيں بند کرکے ليٹ گئی
رات ميں ہی وہ حسن کو اپنی آمد کے بارے ميں بتا چکا تھا۔ مگر گھر ميں کسی کو نہيں بتايا تھا سبکو وہ سرپرائز دينا چاہتا تھا۔ مگر يہ نہيں جانتا تھا کہ وہاں پہنچ کر سرپرائزڈ رہ جاۓ گا۔بيگ ہاتھ ميں لئيے وہ شام سات بجے جب داخل ہوا تو سناٹے نے اسکا استقبال کيا۔ حيران ہوتا جيسے ہی وہ ممی کے روم ميں داخل ہوا تو سب کو وہاں ديکھ کر مطمئن ہوا۔ اندر داخل ہوتے اسنے سلام کيا۔ مگر اسکی سرپرائزڈ آمد پر بھی ہميشہ والا جوش و خروش مفقود تھا۔ نہ وہ دشمن جان نظر آرہی تھی۔ "کيا بات ہے آپ لوگ اتنے سيريس بلکہ پريشان لگ رہے ہيں۔"حديد کو کسی گڑبڑ کا احساس ہوا۔ "وہ اصل ميں۔۔تم بيٹھ جاؤ پہلے پليز۔" فريد بھائ جو اسکے پاس ہی کھڑے تھے کچھ کہتے رکے پھر اسے بيڈ پہ ممی کے برابر بيٹھنے کا اشارہ کيا۔"ہوا کيا ہے؟" بيٹھتے ہوۓ وہ فقط اتنا ہی کہ سکا۔ پريشانی بڑھتی ہی جارہی۔ "ايکچولی دوپہر ميں حورين کو ڈرائيور مارکيٹ لے کر گيا تھا۔ مگر وہاں کسی نے اسکو کڈنيپ کر ليا۔" فريد بھائ کی بات سن کر وہ سناٹوں ميں چلا گيا۔"ممی" اس نے بے يقين نظروں سے ممی کو پھر باری باری سب کو ديکھا جيسے کوئ تو اس بات کے غلط ہونے کی تصدق کرے مگر سب نے نظريں چرائيں۔"يہ سب دوپہر کو ہوا اور آپ مجھے اب بتا رہے ہيں۔ مر گيا تھا کيا ميں جو ايک کال نہيں کر سکتے تھے۔" وہ کھڑے ہوتے فريد بھائ کے ساتھ الجھ پڑا۔"تمہيں بہت ٹريس کيا ليکن شايد تمہاری سائيڈ پر سگنلز کا پرابلم تھا۔ کڈنيپرکی کالز آئ ہيں اور ہر مرتبہ وہ صرف تم سے ملنے کی ڈيمانڈ کر رہا ہے۔ کہتا ہے تم اس سے ملو گے تو وہ حورين کو چھوڑے گا۔کيا تم آج کل کوئ خطرناک کيس ڈيل کر رہے ہو" فريد بھائ نے تفصيل بتاتے ہوۓ پريشانی سے استفسار کيا۔ اسے ياد آيا کہ صبح سے اسکے ايريا کی موبائل سروس بند تھی اور کيس تو بہت سارے تھے جن پر وہ کام کر رہا تھا۔
ابھی وہ يہ سوچ ہی رہا تھا کہ کڈنيپر کی کال آگئ۔ حديد نے لپک کر فون اٹھايا۔ ساتھ ہی نمبر چيک کيا جو کسی پی سی او کا تھا۔ "ہيلو" "اوہ۔۔۔۔کچے دھاگے سے کھچے سرکار آہی گۓ۔ واہ" جو کوئ تھا حديد نے پہلی مرتبہ اسکی آواز سنی تھی۔"تم ہو کون اور اس سب بکواس کا مقصد۔" حديد غصے سے پھنکارا۔"دھيرج ميری جان۔۔۔ملو گے تو سب بتائيں گے۔۔۔ليکن ياد رکھناکوئ ہوشياری کی تو اب تک تو تيری بيوی کی جان محفوظ ہے۔ اسکے بعد کی ذمہ داری ہم پہ نہيں""شٹ اپ يو باسٹرڈ۔۔اگر ميری بيوی کو ذرا سی بھی خراش آئ تو ميں تمہاری نسليں ختم کر دوں گا۔ تم چاہتے کيا ہو" حديد غصے سے چلا اٹھا۔"ہاہاہا! يہ کمبخت محبت ہے ہی ايسی۔۔۔بس ايک ملاقات ميری جان بڑے چرچے سنے ہيں تمھارے سوچا آج تمہيں بلا کر ديکھيں کے کتنے پانی ميں ہو۔خير 8بج کر 30 منٹ پرآجاؤں وہيں بتائيں گے تم سے کيا خدمت چاہيے۔۔۔اور اگر ليٹ ہوۓ تو آگے کے ذمہ دار تم خود ہوگے۔"
مطلوبہ جگہ بتا کر کڈنيپر نے فورا فون بند کيا۔"اسی لئيے ميں کہتی تھی يہ پروفيشن مت جوائن کرو" حديد نے چونکہ مائيک آن کيا ہوا تھا سو سب نے ايک ايک لفظ سن ليا تھا۔ممی حديد پہ غصہ نکال کہ سر پکڑ کر بيٹھ گئيں۔ حديد نے گن لوڈ کی اور نکلنے کے ليئے اٹھ کھڑا ہوا۔ کيونکہ کڈنيپر کی بتائ گئ جگہ کوئ فارم ہاؤس تھا جو شہر سے دور تھا اور جاتے ٹائم بھی لگ سکتا تھا اور حديد کوئ رسک نہيں لينا چاہتا تھا۔"بيٹا تحمل سے رہنا" ممی اسے سمجھاتے ہوۓ بوليں۔ جسکی ہستی زلزلوں کی زد ميں تھی۔ گاڑی اڑاتا وہ مطلوبہ جگہ پہنچا۔فارم ہاؤس کی جس سمت حديد کو آنے کا کہا گيا تھا وہاں بہت مدھم روشنی تھی۔ حديد جيسے ہی آگے بڑھا تو ايک جانب اسے ايک مرد اور عورت ٹيبل کے گرد بيٹھے نظر آۓ۔ مگر روشنی کم ہونے کی وجہ سے انکے ساۓ نظر آرہے تھے۔ جيسے ہی آدمی نے حديد کو آتے ديکھا وہ اپنی جگہ چھوڑ کر حديد کی جانب بڑھا۔ عورت نے بھی اسکی پيروی کی۔ انکو اپنی جانب بڑھتے ديکھ کر حديد نے جينز کی پاکٹ ميں موجود پسٹل پر گرفت مضبوط کی۔"مان گۓ بھئ جناب تو عشق ميں گوڈے گوڈے ڈوبے ہيں۔ مرد کی آواز پہچان کر حديد کے منہ سے حيرت کے باعث بس اتنا نکلا"حسن" حسن نے موبائل پر کسی کو لائٹس آن کرنے کا کہا۔
جيسے ہی لائٹس آن ہوئيں۔ حورين اور حسن کا چہرہ نظر آيا۔ حديد تو ہکا بکا تھا۔"مان گۓ نا بيٹا۔۔۔کيسے ہلا کر رکھ ديا ہے تجھے۔" حسن مسکراتے ہوۓ اسکی طرف بڑھا جو ابھی تک حيرت کی تصوير بنا تھا۔ جيسے ہی اسکے حواس نے کام کيا تو غصے سے قريب آتے حسن کو پنچ مارنے کی کوشش کی۔ وہ اگر متوجہ نہ ہوتا تو حديد کا پنچ اسکا جہرہ سجا ديتا۔حسن بچکر سيدھا ہوا اور اسکے ساتھ لپٹ گيا مزيد کسی کاروائ سے بچنے کے لئيے۔ "آئم رئيلی سوری يار! مگر جتنا تو نے بھابھی کو تنگ کيا ہے۔ ميں نے سوچا وہ تو بدلہ ليں گی تو ميں ہی تھوڑا تيرا دماغ سيدھا کر دوں۔" حسن نےمسکراتے ہوۓ بتايا۔ اور حديد اسکی ڈھٹائ پر اور طيش ميں آگيا۔ چھوڑ مجھے بتاتا ہوں ميں تجھے ابھی۔" حديد حسن کی گرفت سے اپنا آپ چھوڑانے کی کوشش کرتا بولا۔"پہلے وعدہ کر تو بھابھی کے سامنے ميری درگت نہيں بناۓ گا" "اتنا خوف تھا تو يہ گھٹيا حرکت کيوں کی، اور وہ ميرے گھر والے اور ايک يہ گھر والی سب تيرے ساتھ شامل ہو گۓ۔ غصے سے حورين کوگھورا جو پہلے ہی گھبرا رہی تھی۔"ديکھ يار سب ميرا پلين تھا۔ جب تو نے آنے کا بتايا تب ميں نے يہ چھوٹی سی شرارت سوچی۔ اور فون پر آواز بنا کر بولا تھا تاکہ تو پہچان نہ سکے۔ کنجوس انسان تجھے ايک کينڈل لائٹ ڈنر کا سر پرائز ديا ہے۔"حسن نے اسے چھوڑتے اس ٹيبل کی طرف اشارہ کيا جہاں کچھ دير پہلے وہ دونوں تھے۔ "يہ چھوٹی شرارت ہے۔ تجھے ميری کچھ دير پہلے کی کنڈيشن کا اندازہ نہيں۔ دو مرتبہ ايکسيڈنٹ ہوتے بچا ہے۔" حديد اب تک غصے ميں تھا۔"اچھا يار سوری ناؤ انجواۓ يور ڈنر۔ اب جلد ہی وليمے کا کھانا بھی کھلا دے۔" حسن اب وہاں سے نکلنے کے ليۓ پر تول رہا تھا۔ "آئم سو ہيپی فار بوتھ آف يو۔ اور بھابھی کو کچھ مت کہنا وہ بڑی مشکل سے اس سب کے لئيے تيار ہوئيں تھيں۔" حديد سے گلے ملتے حسن نے سرگوشی کی۔""تھيکس بڈی" حديد نے اسکے سرپرائز ڈنر پہ شکريہ کيا۔ حسن کسی کو فون پر انکے لئيے ڈنر سرو کرنے کا کہتا چلا گيا۔ حديد چلتا ہوا اس دشمن جاں کی طرف آيا۔ جو وائيٹ اور ريڈ کنٹراسٹ کے نيٹ کے سوٹ ميں روشنياں بکھرا رہی تھی۔ حديد نے بے اختيار ہاتھ بڑھا کر اسکو ساتھ لگا کر خود ميں بھينچ ليا۔ حورين ششدر رہ گئ۔ "تھينکس گاڈ يہ صرف ايک مزاق تھا" حديد نے اسکے ہونے کا يقين کرکے اسے خود سے الگ کرتے کہا۔ پھر اسکا ہاتھ تھامے ٹيبل کی جانب بڑھا جہاں ڈنر سرو ہو چکا تھا۔کھانا کھانے کے دوران بھی حديد کی نظريں اسکے چہرے پر تھيں۔"اب اگر آپ نے مجھے ديکھنا بند نہ کيا تو ميں ٹيبل کے نيـچے چلی جاؤں گی۔" حديد اسکی گھبراہٹ سے محظوظ ہوا۔ "ميں ابھی تک بے يقين ہوں کہ آپ ميرے سامنے ہيں۔ خواب سا لگ رہا ہے۔" حديد کی بات سن کر حورين شرارت سے مسکرائ اور اسکے ٹيبل پر رکھے ہاتھ ميں فارک چبھويا۔حديد نے ہاتھ کھينچتے غصے اور حيرت سے ديکھا۔"سوری"حورين شرارت سے مزيد مسکرائ۔"گھر چل کر بتاؤں گا آپکو" حديد نے مصنوعی غصے سے کہا۔
گھر آۓ تو سب اپنے اپنے پورشنز ميں جا چکے تھے۔ حديد انکی کلاس صبح لينے کا سوچ کر حورين کے ساتھ اپنے روم ميں آيا۔ جيسے ہی اس نے ڈريسنگ روم کی جانب قدم بڑھاۓ۔ حديد نے اسے بازو سے تھام کر روکا۔"کيا ميں اتنی دور سے ايک کينڈل لائٹ ڈنر کے لئيے آيا تھا۔ ميں نئ زندگی شروع کرنے سے پہلے چاہتا ہوں کہ ہم ہر بات کلئير کرکے دل صاف کرکے ايک دوسرے کی جانب بڑھيں۔""کيوں نہيں" حورين نے نظريں نيچے جھکا کر اسے اجازت دی۔ حديد کی محبت کی شدت کا ہی سوچ کر وہ کپکپا رہی تھی۔اسے لئيے وہ صوفے پر بٹھا کر اسکے ساتھ بيٹھا۔
"ميں ہميشہ سے محبت پر يقين نہيں رکھتا تھا۔ اور خاص طور پر مياں بيوی کا رشتہ ميرے لئيے ايک سمجھوتے اور جسمانی ضرورت سے بڑھ کر کچھ نہيں تھا۔ جب آپ سے شادی ہوئ تو حسن نے سمجھايا کہ يہ رشتہ جسم کا نہيں روح کا ہے۔ مگر ميں نے اسکی بات کو ہنسی ميں اڑايا۔ اور يقينا اللہ کو ميرا اس رشتے کا ايسے تمسخر اڑانا پسند نہيں آيا۔ اور اس نے مجھے آپکی محبت ميں مبتلا کر کے ميری ہر سوچ جھٹلا دی۔ميں اپنے ہر برے لفظ اور اٹی ٹيوڈ کے لئيے آپ سے معافی مانگتا ہوں۔ اس دن جب وہ چاۓ کا کپ گرا اور آپکی آنسو بھری آنکھيں۔۔۔مائ گاڈ آئ کانٹ فار گيٹ ديم۔۔بس انہی ميں ڈوب گيا۔" وہ جو خاموشی سے اسکی بات سن رہی تھی اسکے خاموش ہونے پر بولی۔"ميں نے خود کو زندگی ميں کبھی اتنا غير اہم محسوس نہيں کيا جتنا آپکے رويے سے کيا۔ وہ ميری زندگی کے سب سے بھيانک دن تھے۔ ايسا لگتا تھا ميں بے سائبان ہوگئ ہوں۔" کب سے تھمے اسکے آنسو گالوں پر پھسلے۔"سوئيٹ وائفی رئيلی سوری۔"حديد نے اسکے آنسو صاف کئيے۔"کيا ميں کوئ جسارت کر سکتا ہوں۔ماريں گی تو نہيں۔" حديدنے اسکا موڈ بہتر کر نے کے لئيے کہا۔"ہاتھ بھی پکڑ ليا گلے بھی لگا ليا اب معصوم بن کر مجھے شرمندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہيں۔" حورين نے اس پہ چوٹ کی۔حديد کا قہقہہ گونجا۔"آپکے خيال ميں آپ نے سوری کہا اور ميں مان گئ" حورين اسکے پاس سے اٹھتے ہوۓ بولی۔
حديد نے حيرت سے اسے ديکھا۔" جب تک آپ يہاں ہيں ميں صوفے پر ہی سوؤں گی اور آپ بيڈ پر" "اب ميں اتنا بھی رحمدل نہيں۔" حديد نے اسکی شرارت کو سمجھتے ہوۓ کہا۔اور ايک لمحے کا بھی موقع دئيے بغير حورين کی کمر کے گرد بازوؤں کا گھيرا تنگ کرکے خود سے لگايا۔"حديد يہ فاؤل ہے" حورين نے حديد کے سينے پر ہاتھ رکھ کر بمشکل فاصلہ پيدا کيا۔ "کين يو کال مائ نيم اگين۔"
حورين نے پہلی دفعہ اسکا نام ليا تھا۔حورين نے نہ سمجھتے ہوۓ دوبارہ کہا۔"اتنا سوئيٹ مجھے اپنا نام کبھی نہيں لگا دل کر رہا ہے کہ۔۔۔" ابھی حديد کا جملہ پورا نہيں ہوا تھا کہ حورين نے جھٹ اپنا ايک ہاتھ اپنے ہونٹوں پہ رکھا۔ حديد نے نا سمجھی سے اسکی يہ حرکت ديکھی پھر جب سمجھ آيا تو بے اختيار قہقہہ بلند کيا۔" نہيں ميں ابھی کوئ جسارت نہيں کروں گا۔۔بلکہ اپنی شيرنی سے پہلے اور ڈانٹ کھاؤں گا۔""خود اتنے بڑے دہشتگرد ہيں۔مجھے شيرنی کہہ کہہ کر بدنام کيا ہوا ہے۔" حورين کی بات پہ وہ اپنی بے ساختہ مسکراہٹ روک نہ سکا۔
"از دير اينی نيڈ ٹو سے آلو يو ناؤ""نو۔آپکے دل نے مجھے بتا ديا ہے کہ ميں آپ کے لئيے کتنی خاص ہوں اور آپکو کتنی محبت ہے مجھ سے"حورين نے ناز سے کہتے اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کيا جو حديد کے سينے پہ دھرا تھا۔حديد نے محبت سے اسکی پيشانی پر بوسہ ديا۔"تھینکس وائفی
ختم شد

0 تبصرے
ہم سے رابطہ کرنے کا شکریہ
ہم آپ سے بہت جلدی رابطہ کریں گے۔